786isakhel.com

Isa Khel Daur Te Nai Part 1

Abdul Qayyum Khan is a well-known teacher, singer, a numerologist, a palmist, a poet and a writer.He is from Isa Khel. He started working as teacher in 1974 and finally retired in 2013 as principal of Govt high school Isa Khel. He studied in Govt high school Isa Khel.

For Detail profile of Abdul Qayyum Khan 

عِيسىٰ خيل دور تے نئی-  عبدالقیوم خان

کسی انسان کی زندگی مین بے شمار دوست آتے جاتے ھین .جب تک وقت کا پھیر اپنے حق مین دہتا ھے سنگت رہتی ھے،وقت اکھتا گزرتا ھے،بڑی یادیں بنتی اور مٹتی ھیں اور پھر وقت کروٹ بدلتا ھے. دوستون کا ایک بڑا مجمع بکھر جاتا ھے……….وقت اور زمانے کے تھپیڑے انہیں کہاں سے اٹھا کر کہاں دے مارتے ھیں پھر نئے چہروں کی get together ھونے لگتی ھے،نئے سلسلے ،نئے نفع نقصان کی زنجیریں ھمارے پاءوں کو جکڑنے لگتی ھین.
نصیرا اوٹھی (اونٹھوں والا) حاجی قادر کمرمشانی،عمرا،خاود جھاوریان،منور علی ملک، عطااللہ عیسےا خیلوی،ماسٹر وزیر،شفا ھرایا،ماسٹر ضیا،مظھر علی (علی عمران اعوان)اور پھر وقت کا دھارا بدلا…………………پھر ھاشم شاہ ،حافض فیض رسول ترگ،عزیز شاہ، خالد خان مغل، محمد دین استاد،
بی اے خان،نصیر چشتی،عمر حیات خان ترگ،جاوید حسن خان ترگ،گل حسین ترگ،رفعت حیات خان، جمال ھاشمی، اصغر خان پاک میڈیکل، ذاکٹر ظفر کمال، سلامت خان،الطاف خان لیذر، ببلی خان لیزر ………………وغیرہ وغیرہ………..جنکا نام لکھتے لکھتے زندگی بیت جائے گی…….لیکن عیسےا خیل دور تے نئ میں سب سے پہلی post منور علی ملک پر ھو گئ ……….انشاللہ-

دوستو منور علی ملک سادگی اور عاجزی کا ایک ایسا مرقع ھے کہ صدیون کی تربیت اور دنیا بھر کی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد بھی شاھد ھی کسی کو حاصل ھو سکے.کہنے والے کہتے ہین کہ جو تعلیم سادگی اور عاجزی پیدا نہین کر سکتی وہ بیکار بلکہ فتنہ ھے. منور علی پیدایشی طور پر اپنی سادگی اور عاجزی کی وجہ سے ایک بڑا آدمی ھے………….وہ میری زندگی مین کب آیا ………..کب منظد سے غایب ھو گیا……………اور کتنے دن مجھے اسکی سنگت نصیب ھوی،مجھے پتہ ھی نا چلا……..کتنا خوبصورت دور تھا اللہ اللہ یہ منور علی ………اود وہ منور علی، کتنی علامتی اور کتنی حقیقی تبدیلیان رونما ھو گین………..وقت کے ھاتھ مین کتنے نشتر ھوتے ھین……….وقت کیا شیے ھے ساءینسدان آج بھی اسے سمجھنے مین لگے ھوے ھین.

گورنمنٹ ھائ سکول عیسےا خیل کی دو منزلہ عمارت میں اوپر والی منزل میں میرا سائنس روم میں پکا ٹھکانا…………اور اوپر والی منزل میں گورنمنٹ ڈگری کالج عیسےا خیل …………بہت سے پروفیسر سائنس روم میں آتے جاتےتھےا ور میرا لالہ منور علی بھی…………پہلی ملاقات مین عاجزی اور سادگی کی تصویر ………ایک مکمل ملنگ مجھے کیا متاثر کرتا……….کوئ گلیمر…… کوئ کروفر…..کوئ انگلش کے چھوٹے بڑے فقرے…………کوئ ڈریسنگ…… کوئ سواری ……….کوئ نخرہ…………..کچھ بھی نہیں تھا……..کیا کوئ اتنا سادہ آدمی اتناcreative بھی ھو سکتا ھے …….کبھی ان آنکھوں نے دیکھا نہیں تھا…..سامنے سے مکمل طور پر ملنگ نظر آنے والا آدمی ذھنی طور پر اتنے بڑے خزانے کا حامل ھو سکتا ھے…….کبھی سوچا نہیں تھا…..جب تک منور علی میری زندگی مین نہیں آیا تھا میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا تھا………….مین نے اپنی صحیح ، غلط انگریزی سے بڑے بڑے پھنیر ٹیچروں کو دبا رکھا تھا لیکن لالے کے سامنے مجھے کبھی ایک فقرہ بولنے کی جراءت نہین ھوئی…26 دسمبر  2016 

منور علی عیسےا خیل کی سرزمین مین اس وقت نمودار ھوا جب موسیقی کی دنیا کا ایک بہت بڑا ستارہ زیر زمین ،خود رو پودے کی طرح اگنے،پلنے،بڑا ھونے، سانس لینے،اور پرورش پانے کے عمل سے گزر رھا تھا.یہ ستارہ عطااللہ عیسےا خیلوی تھا.جسکی ابھی پہلی کیسٹ سامنے نہین آئ تھی. اور وہ استاد امتیاز خالق کی چند دھنوں اور دہڑے ماھئے بار بار گا رھا تھا. وہ گریمر سے پاک لوک موسیقی کے اندھے جنون مین ساری ساری رات گاتا اور صبح اپنے روائتئ پٹھان باپ کی گرم گرم گالیان سنتا.اس وقت کے مطابق عطااللہ فیصل آباد سے اپنی پڑھائی ادھوری چھور کر ،گانوں سے فل بھری ھوئی کاپی لیکر………………….. اپنے گھر آ چکا تھا اور ھر روایتی والد کی طرح عطااللہ کے والد کو بھی یہ سوال کھائے جا رھا تھا کہ اب اس سنگر صاحب کا بنے گا کیا ؟؟؟؟؟ کبھی کبھار یہ سوال خود عطا اللہ کو بھی پریشان کرتا تھا…………….یہ بات عطااللہ کے تصور میں بھی نہیں آ سکتی تھی کہ اگلے چند برسوں مین وہ دنیا کا بہت بڑا آدمی بننے جا رھا ھے …………….بس ھارمونیم……..اپنے اپنے گھروں سے فالتو چند لنگوٹیے یار………سگرٹ، نشے کی کچھ اور چیزیں……….کچھ ھر ھفتے…….مہینے بدلنے والی محبتیں………اور راتون کے جگراتے…..یہ تھی اسکی کل متاع حیات….. ……………………….اسی موڑ پر منور علی عطااللہ کی دنیا مین نمودار ھوا..27 دسمبر  2016 

عطااللہ ایک بند گلی مین مجود تھا………موسیقی کا اندھا شوق، سردیون کی رات 99 بجے سے سٹارٹ لینا اور صبح 5 بجے تک گاتے جانا………..اور جب دن کی روشنی مین اپنے مستقبل کی طرف نظر دوڑانا تو گھمبیر اندھیرون کے سوا کچھ نظر نا آنا………………..
گلوکار ایک پیشہ کا تصور کرنا بھی اس وقت محال تھا……بلکہ ایک قبایلی معاشرے کے اندر گانا براے شوق بھی ایک بھاری فعل تھا………………….عطااللہ کو مان کا پیار بدرجہ اتم ملا ھوا تھا لیکن اس male dominatedسوسایٹی مین اسکے گھر کی فضا مین بڑی گھٹن پائ جاتی تھی………………..یہ قدرت کا کارنامہ تھا شایدکہ وہ ……………….گاتا رھا……گاتا رھا…….مستقبل سے آنکھین بند کر کے…………وہ موسیقی کے اس راستے سے ذرا بھی بھٹک جاتا تو ایف اے،بی اے کرکے شاید ایک استاد ھی لگ جاتا اور آج پاکستان اور دنیا تو کیا اسے ضلع میانوالی مین کوئ نہ پہچانتا …….لیکن قدرت کو اسکا بھٹکنا ھی منظور تھا……..اسلئے کہا جا سکتا ھے کہ شاید سرزمین عیسےا خیل مین یہ ایک فطری اور natural phenomenon جاری تھا جس نے آگے بڑھ کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ مین لے لینا تھا…………….
بےاستادی موسیقی ایک ایسے طبلہ نواز کے ساتھ جسکا طبلہ ریڈیو اسٹیشن اور ٹی وی والون کےلئے ناقابل قبول تھا……..اللہ اسے بخشے….ماجہ بطور انسان بہت اچھا آدمی تھا یہ اسی کا جگرہ تھا جو صبح 5 بجے تک آنہ ٹکا لئے بغیر چلتا رھتا تھا…….
موسیقی کے علاوہ عطااللہ ایک سانولا سا، ناز و ادا والا……چانجلا ڈھولا ، انتہائ زیرک………..Leo star یعنی بادشاہ سلامت…………… ………. پوری محفل پر تا دم آخر اسکا کنٹرول اورجادو چلتا رہتا.
ایک وقت تھا جب لوگ صرف عطااللہ کو ریکارڈ کرنے کے لئے ٹیپ ریکارڈر خریدتے تھے-

مجھے یاد ھے پڑھا لکھا ھونے کے بوجود بھی مین لوگون کے اس بڑے لشکر مین شامل تھاجس نے ٹیپ ریکارڈر محض عطااللہ کے لئے خریدی تھی…………..
کیا قدرت کرہ ارض پر فنکارون،دنشورون، سائنس دانون اور سیاستدانون کو خود لے کر آتی ھے یا یہ معاشرتی حادثون کی پیداوار ھوتے ھین………………میرا خیال ھے کہ یہ معاشرتی incidence ھوتے ھین…عطااللہ کا نیکی، سماجی فلاح بہبود، انسانی ترقی، انسانی المیون کے لئے نجات دھندہ ھونے سے کتنا تعلق ھے….؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟اس سوال کا تعلق علاقے کے لوگون سے ھی مانگا جا سکتا ھے. بات منور علی کی ھو رھی تھی………….عطااللہ اور منور علی دو الگ الگ انسانی روپ تھے………ایک آگ روسرا پانی……….لیکن دونون ھی فن اور فنکارئ سے بھر پور تھے…..ایک کی انگلیان ساری رات ھارمونیم پر پھسلتی…..تھرکتی رہتین دوسرا وہ بندہ تھاجسکو پاکستان اور انڈیا کے تمام گلوکارون،لتا،رفیع، مکیش، نورجہان کے بے شمار گانے دھنون سمیت زبانی یاد تھے اور جس نے مشرق و مغرب کے تمام ادیبون، شاعرون کو پڑھ رکھا تھا …….منور علی شاید عطااللہ کی خوش قسمتی بن کر سامنے آیا.–28 دسمبر  2016

گزرتے وقت کے ساتھ عطااللہ کے گرد لوگون،دوستون،لنگوٹئے یارون کا دائرہ بڑھنے لگا.کچھ وہ لوگ تھے جو وقتی مہمان بن کر آتے،سنتے اور چلے جاتے………..کچھ لوگ عطااللہ کے ساتھ پکے نتھی تھے جن مین ماسٹر وزیر ، شفاء ھرایا،ماما نورا،استاد احسن خان صاحب، ماجہ ،ممتاز ارائن ڈسپینسر، ماماشیدا خان، بیدا خان، ضیاءاللہ خان عزیز خیل……………عتیل عیسےا خیلوی……….وغیرہ وغیرہ……..لیکن ان مین ماسٹر وزیر اور شفاءھرایا خاص الخاص عہدون پر تھے……..یہ عہدے انہون نے خود گھڑ رکھے تھے …….. انہون نے خود بخود اپنے اوپر یہ لازم کر رکھا تھا کہ کسی بھی ایسے بندے کو عطا اللہ کے نزدیک نہین جانے دینا جو اپنی جگہ ان دونون سے بھی زیادہ بنا سکے……….اور خود انکو ھی out کر دے…………عطااللہ شمع محفل تھا….اور ان کے لئے اتنی کشش اور شہرت کا حامل ھو چکا تھا کہ خود ساختہ سازشون کا …….. ایک جال ھر وقت اسکے گرد بنتا…. اور ٹوٹتا رہتا تھا کہ کوئ بھی بندہ ڈرامائ طور پر اگر غلطی سے عطااللہ کے نزدیک آ جاتا تو ماسٹر وزیر اور شفاء اسے خطرناک جراثیم کا لقب عطا کرکے خود بخود اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے کا کام……….عطااللہ کو بے خبر رکھتے ھوئے کرتے کیونکہ عطااللہ ھی تو انکی جان،جگر…….دل….پھپھڑہ اور سب کچھ تھا .
عطااللہ کا موسیقی کا یہ کمرہ ایک اچھا خاصہ مے خانہ…..چمن…..محلاتی سازشون کا اکھاڑہ……..پریم نگر…….love point اور……….پتہ نیئ کیا کیا تھا……….
نشے کی ھر چیز…..بیڑہ….سگرٹ…چرس…….کاٹکو…………..وغیرہ وغیرہ کسی نہ کسی رند کے پاس ھوتی تھی……اور عطااللہ ان تمام نشون کےلئے بالکل واٹر پروف تھا……ان تمام چیزون کا اس پر کوئ برا اثر نیہن پڑ سکتا تھا……….چرس والی چھوتی سگرٹ…………پانچوین………….یا دسوین سگرٹ……….. never mind ………………عطااللہ کے مے خانے مین داد دینے کا عمل پورے برصغیر ھندو پاک مین سب سے نرالا……انوکھا….اور وکھری ٹائپ کا ھوتا تھا جو عمل انگیز کا کام کرتا تھا…….داد کے بغیر ایک دن میرے سامنے عطااللہ نے گانے سے انکار کر دیا تھا، اس نے frankly کہا بغیرتو !موئے پئے ھو ( مرے پڑے ھو )….داد دینے کا بڑا عہدہ استاد احسن خان صاحب کے پاس رھتا تھا…….اللہ بخشے بڑا اچھا انگلش کا استاد ………….بہت نفیس آدمی…….بہت گرج دار آواز کاحامل…………..اور ایک نئ نویکلی داد کا موجد…..29 دسمبر  2016

جب عطااللہ کو گاتے ھوءے آدھا پونا گھنٹہ ھو جاتا، موسیقئ کا ماحول ذرا گرم ھو جاتا تو استاد احسن خان مین حرکت پیدا ھوناشروع ھوتی…..وہ پہلے slow motion مین، پھر تیز…….پھر کچھ اور تیز…….اور پھر آخر مین چوتھے گیئر مین داد کو ڈال دیتے……….اوئے جیو……..اوئے جیو عطااللہ……..او حیاتی ھوی اوئے……او جیو عطااللہ………اوئے جیو ھزارون سال عطااللہ…….
اس داد کے آخری الفاظ مین عطااللہ بہت گرم ھو جاتا………رند بھی تپ جاتے…….فضا مین سگرٹ کے…..اور چرس کے دھوئن کے کسش بڑھ جاتے………10/10 کے تین چار نوٹ ماجے کے اوپر بھی آن گرتے………..احسن خان کی یہ داد بذات خود آرٹ کا ایک اعلےا نمونہ ھوتی تھی…..اسکے اندر باقائدہ ردھم……موسیقیئت اور انفرادیت ھوتی تھی……بلکہ یہ اس مے خانے کا ایک بہت ضروری…….آءیٹم تھا…..گھر سے باھر مے خانے مین احسن خان … ..ایک بزرگ جسکی یہ حالت اور ردھم سے بھرپور داد دینے کا یہ دھماکہ خیز انداز …………اور گھر کے اندر ایک اور بزرگ …..جسکی یہ حالت کہ ردھم سے بھر پور………………….گالیون کی بوچھاڑ…………یہ دونون بزرگ آپس مین دشتے دار تھے…………ایک فنکار کا بابا خضور اور دوسرا اسکا ………ماما
بالآخر باھر والا بزرگ جیت گیا…………چند سالون بعد عطااللہ انٹرنیشنل بن گیا…………..باھر والے نے داد دینی چھوڑ دی اور اندر والے نے گالیان…………عطااللہ کے والد نے عطااللہ کا ایک اور نام رکھ دیا………… …….خانءآعظم.. …!30
 دسمبر  2016

عیسےا خیل دور تے نئ قسط 6
عطااللہ کی رات والی موسیقی مین کبھی کبھار بسون، کوچون،ڈاٹسنون کے ڈرائیور بھی حاضر ھوتے تھے لیکن ایک الیٹ کلاس کی 4/4 3/3 کی ٹولیان بھی کمرمشانی، ترگ، حتےا کہ میانوالی سے بھی کبھی کبھار عطااللہ کے سننے کے شوق مین حاضر ھوتین……تین… چار…پانچ ٹیپ رکارڈر بھی ….. سارئ رات اس موسیقی کو ریکارڈ کرتے رہتے…….. آٹھ دس سال موسیقی کی اس ریاضت کے دوران مہمانون کو چائے ضرور پلوائی گئی ………لیکن اس نے اس مے خانے کو کبھی.. . …………ریسٹورنٹ نئی بننے دیا………..اسے اپنی حدود کا پتہ تھا……….. کھانے کا ایک ٹرے بھی اگر گھر سے مے خانے کی طرف نکلتا………تو دوسرے دن مے خانہ بند ھو جاتا………….البتہ چائے کا ٹرے روزانہ کی بنیاد پر……..مے خانے مین رات کو 12 بجے کے قریب آتے ھوئے دیکھا گیا ……..
جناب مجبور عیسےا خیلوی اور منور علی مے خانے مین رات کے وقت کبھی نئی دیکھے گئے …….انکا تخلیقی کام کسی اور سائیڈ پر ………یا شاید انکے گھرون مین ھو رھا تھا………….یہ وہ لوگ تھے جو اصل گیم کر رھے تھے اسی اثنا مین اظھر نیازی کمر مشانی بھی بہت اھم گیت لےکر میدان مین اترا……….لیکن مجبور عیسےا خیلوی بہت پہلے سے اپنے جلتے ھوئے دکھون کی کہانی کو شاعری کے روپ مین ڈھال کر ………عوام پر تیرون کی بارش برسا رھا تھا……………… بے درد ڈھولا ایوین نئ کریندا ….دکھیان کون سجنڑان گل چا لویندا………………………. دکھیان کون ڈے نہ جھنڑکان…………………. بوچھنڑان مین تو یار نہ کھس وے ……..شالا پیا وسے تیڈا بھانڑ ماھی وے……..ڈھولا چانجلا…………………چمٹا تان وگدا………پھٹنی نوکریان……..ڈٹھی ھان ڈڑب کر کے……………. …
تقدیر دا مالک سامنڑین آ…….وچ پردان دے لک چھپ نہ
میری قسمت نون تحریر کرینا…..کیون لکھیا وئ ھک سکھ نہ
ھک زخم شدید ھے جگر اتے……وتا سوز جگر تون ڈکھنا
نئی مجبور تو سکھان دے قابل…تیڈے نال سکھان دی ڈھک نہ….31
 دسمبر  2016

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *