786isakhel.com

Isa Khel Daur Te Nai Part 2

1

 

مبارک باد
مین اپنی پوسٹ پڑھنے والے اور دوسرے تمام دوستون کو جو فیس بک پر میری کمیونٹی ھین اور میری عزت کرنے والے اور چاھنے والے ھین……….انہین نئے سال 2017 کی مبارک باد پیش کرتا ھون…….اللہ رب العزت سے دعا ھے کہ اللہ آپکو اور مجھے دنیا اور آخرت کی کامیابیان عنائت کرے………آمین ! بس یہ ایک چھوٹی سی خواھش ھے کہ آپکے ارد گرد اگر کوئی ضرورت مند……مسائل زدہ …….مالی مسائل کاشکار…….کوئی مریض آپکو نظر آئے….اور آپکا بس چلے تو اپنا ھاتھ ضرور اس تک لے جائیں …….. ….یہ چیز اللہ کو بہت پسند ھے………..
مجبور عیسےاخیلوی ،منور علی ملک ،عتیل عیسےاخیلوی، اظھر نیازی، آڈھا ، بے وس کے دہھڑے ماھئے ،ما ما فاروق، خورشید شاہ……..یہ لوگ…………لوگوں کو رلانے کے لئے ایک پہلا گروپ تھا………یہ لوگ خود تو آگے پیچھے نہ ھو سکے لیکن انکے کلام نے عطااللہ کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا…………….عطااللہ کے ھٹ ھونے کے بعد بہت سے دوسرے شاعر وں نے عطااللہ کے ساتھ چھلانگ لگا دی……..اور یہ بھی بہت اچھا لکھنے والے ثابت ھوئے مثال کے طور پر…….مظہر نیازی، محمود احمد، افضل عاجز ،ایس ایم صادق، بری نظامی ،نزیر یاد………….منشی منظور وغیرہ وغیرہ…….. مجبور عیسےا خیلوی عشق و عاشقی کی گہری کھایوں سے عملی طور پر گزرتےھوئے آ رھے تھے……….عشق میں معشوق ملے نہ ملے ………یہ تو نصیبوں کی بات ھے لیکن …یہ……انسان میں ایک چیز ضرور پیدا کر دیتی ھے…………..انسانئیت ! مجبور ایک انتہائی اچھا انسان تھا
لالہ منور علی نے اپنے وقت کے مغرب کے تمام تر انگریز شاعروں ،ادیبوں کو پڑھ رکھا تھا…… اور محبت تو خیر زندگی کا ایک لازمی جزو ھوتا ھے……….لیکن منور اپنے وقت کا شیکسپئر بھی تھا…….عشق و محبت کی تمام کیفئتوں سے مکمل طور پر آگاہ……….اور ایک بہت بڑا شاعر اور افسانہ نگار……..یہ عطااللہ کی بڑی خوش قسمتئ کے طور عیسےا خیل میں ظہور پزیر ھوا……..
سچی ڈس وے ڈھولا کل کیوں نئی آیا…………. . …………
چن کتھے گزاری ھئی رات وے……..بےدرد ڈھولا انج نئ کریندا…….. رت ولی پکھواں دے جوڑے آگئے……….عطاءاللہ کی پہلی شادی کی سچی کہانڑی کے دہڑے ماھئے ……..اللہ نہ بھلاوے اے تاں ماھی والی ٹور اے………………. نت دل کوں آدھاں کل ماھی آسی…………قبر تے لکھ ویساں نئ سجڑاں وفا کیتی………..
لیکن ایک انتہائی خوبصورت غزل گانے کا ………..حق عطاءاللہ سے اسطرح ادا نہیں ھوا جتنی کے خوبصورت وہ غزل تھی………….
اگر تم کو جانا ھی تھا ایک دن تو پھر کیا ضروری تھا اس دل میں آنا…….برے یا بھلے میرے دن کٹ رھے تھے ابھی میں نے سیکھا نہ تھا زخم کھانا……..
ندامت ھے بے سود خود کو سنبھالو مجھے چھوڑ دو اپنی دنیا بسا لو….برابر سہی میرا ھونا نہ ھونا مجھے چاھئے اپنا ٹوٹا کھلونا……..مجھے اپنا کہتے تھے جس سادگی سے اسی سادگی سے مجھے بھول جانا……
میرے پاس کیا ھے کھڑے کیوں ھو جاءو ..میں اب مر چکا ھوں مجھے بھول جاو ..تمہں فکر کیا گر پریشان ھوں میں…….تمہاری طرح ایک انسان ھوں میں ……….یہ دنیا ھے تاریکیوں کی محافظ……دیا اس میں احساس کا کیا جلانا…..
1 جنوری 2017

اس سے پہلے کہ میں اظہر نیازی ،عتیل عیسےاخیلوی پر یا دوسرے شاعروں پر کچھ بات کروں………آج میں آپکو یہ بتانا چاھتا ھوں کہ عطاءاللہ اور میرارشتہ کیا ھے اور میں کیوں معاملات کو اسقدر گہرائی تک جانتا ھوں………..
عطاءاللہ اور میں ایک ھی محلہ سے تھے…..پہلی سے لیکر میٹرک تک کلاس فیلو رھے……..عطاءاللہ بچپن سے گاتا آ رھا تھا ……وہ ایک بچے کی حیثیئت سے شادی کی کئی تقریبوں میں یہ مشھور نعتیہ کلام گاتا رھتا تھا…….شاہ مرینہ. … یثرب کے والی سارے نبی تیرے در کے سوالی………..پھر جب پرائمری سکول سے نکل کر ھائی سکول میں چھٹی ساتویں…………..آٹھویں نویں میں پہنچے تو ساری کلاس جانتی تھی کہ سکول کے اندر گانے والے لڑکے صرف تین ھیں……عطاءاللہ……انور جت…….اور میں………….پھر ایک دن صبح مارننگ اسمبلی میں سارے سکول کے سامنے ایک سٹیج نما تھلے پر.. ………..کسی ٹیچر نے عطاءاللہ کو ایک گانا سنانے کےلئے بلایا……جو کہ صاف ظاھر ھے کہ پہلے سے طے ھوا ھو گا……عطاءاللہ اس وقت دبلا پتلا .. . ….چھوٹے قد کا ……..سانولا سا لڑکا تھا…….وہ آیا اور حیران کر دیا……..اس بھری دنیامیں کوئی بھی ھمارا نہ ھوا…محمدرفیع کا آل انڈیا ریڈیو سے چار پانچ مرتبہ گانا سن کر یاد کر.لیا ھو گا…….اس وقت کی سب سے بڑی ایجاد ریڈیو ھی تھا………..اسقدر اعتماد اور پرفارمینس کے ساتھ گایا کہ سکول کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا………ھمارے سیکشن جدا جدا تھے.میں سائنس اور وہ آرٹس کے سیکشن میں تھا……ملاقاتوں کا سلسلہ ذیادہ نہں ھو سکتا تھا…..سارہ دن اپنے اہنے سیکشن میں گزارتے اور چھٹی ھونے کے بعد پاگلوں کی طرح گھروں کی طرف بھاگتے تھے…
ھماری کلاس میں ایک انتہائی قابل…….اور فطین ….بادعب
ڈرامائی اور فنکار استاد…….ناصر بخاری ھمیں انگلش پڑھاتا تھا………وہ میانوالی کے ایک علاقہ ڈھیر امید علی شاہ سے تعلق رکھتا تھا……….سارا سکول ،سارے استاد اور تمام بچے اس سے متاثر تھے……..اسکی چال……اسکے بولنے کا انداز……پڑھانے کا طریقہ…….اسکی باڈی لینگویج………زندگی بھر اس جیسا استاد پھر دیکھنے کو نہیں ملا…….وہ ایک خوبصورت گلوکار بھی تھا……..نہ جانے کیسے اسے خیال آیا کہ اس نے سکول کے اندر ایک ڈرامہ سٹیج کرنے……اور ٹکٹ شو کرنے کا باضابطہ اعلان ھیڈ ماسٹر سے مل کر کیا…..سکول ٹایم کےبعد نہ جانے کتنے دنوں …….شام تک اس ڈرامے کی تیاری چلتی رھی……….اور تیاری کے دوران لوٹ سپیکر پر انڈیا اور پاکستان کے گانے چلتے رھتے…….اور بالاخر ڈرامہ شروع ھو گیا……انور جت نے نور جہان کا گانا……..اورے صنم دل یہ کیسے بتائے ……پیار میں ویری ھو گئے اپنے پرائے……….انور جت اس وقت صرف 14 سال کا لڑکا تھا…انتہائی خوبصورت……..اس نے مکمل طور پر نور جہان کی آواز میں گانا گایا………ایسا لگتا تھا جیسے وہ صرف لپسنگ lipsing کر رھا ھے اور نور جہان کہیں پردوں کے پیچھے موجود ھے…………عطاءاللہ نے عنایت حسین بھٹی کا مشہور گانا ………..جگر چھلنی ھے دل گبھرا رھا ھے……محبت کا جنازہ جارھا ھے……عطاءاللہ نے عنایت بٹھی کا یہ گانا گا کر سارے پنڈال کو رلا دیا……………….
وہ عاشق مزاج ……خوبصورت دل و دماغ والا انتہائی فطین استاد ناصر بخاری…..اپنے علاقے ڈھیر امید علی شاہ میں کسی لڑکی کو دل دے بیٹھا…….. افسانہ پھیل گیا…….معاملے نے سکینڈل کا روپ اختیار کیا…………غیرت………..اور بے عزتی کے جزبات بھڑکے………….بری تقدیر نے ناصر بخاری کا رخ کر لیا………اور ناصر بخاری رات کو اپنے گھر اپنی چارپائی پر نیند کی حالت میں قتل کر دیا گیا……….سکول کے اساتزہ اور لڑکوں میں اتنی اداسی اور غم پھیلا کہ ھمیں ایسا لگتا تھا ھمارا باپ مر گیا ھے………………..
کبھی کبھار دل کرتا ھے کہ استاد ناصر بخاری کے علاقے میں جا کر دھاڑیں مار کے رویں ……..اسکے گھر والوں سے ملیں….اسکی قبر دیکھیں….فاتحہ پڑھیں…….
عطاءاللہ کو اس لائین پر motivate کرنے والا وہ پہلا اور آخری ٹیچر تھا……اللہ رب العزت سے دعا ھے کہ اللہ ناصر بخاری کو جنت الفردوس میں جگہ دے…..آمین.!
میٹرک کے بعد عطاءاللہ فیصل آباد اور میں سرگودھا گورنمنٹ کالج میں داخل ھو گئے………..وہ ایف اے میں ناکام ھونے کے بعد شاید 1968 میں واپس آگیا..اور میں سرگودھا سے لاھور اگلی تعلیم کے لئے چلا گیا…….1974 عیسےا خیل کا سب سے پہلا سائنس ٹیچر آ کے لگا……….
ایک دن گلی میں عطاءاللہ سے ملاقات ھو گئی…….مجھ سے کہا قیوم براہ………اج آویں شغل کرساں………..میں شام کے وقت گیا……تو دیکھ کر حیران رہ گیا……عطاءاللہ……..واجہ…….ماجہ…..اور غالب کی غزل …….
دل ناداں تجھے ھوا کیا ھے….آخر اس درد کی دوا کیا ھے
میں دیکھ کر بالکل شل ھو گیا……….ھم تو سائنس پڑھنے میں لگے رھے اور یہ پورا گلوکار بن چکا ھے………اگلے مہینے میرا بھی ھارمونیم آ گیا……..اسکو پانچ چھ سال ھو چکے تھے.وہ ھارمونیم سیکھنے کے مرحلے سے گزر چکا تھا….میرے ھارمونیم سیکھتے سیکھتے …………..وہ ھٹ ھو گیا………چھا گیا……….2 جنوری 2017

جب تک عطاءاللہ مے خانے تک محدود رھا….کبھی کبھار کوئی مفت والا پروگرام ھاتھ لگ جاتا …….موسیقی کے معاملے میں پاکستان اور خاص طور پر میانوالی لوگوں کا رویہ ایک عرصے تک ……دوغلا رھا…..لوگ فنکار کو کچھ اور سمجھتے……اپنے بیٹے کی شادی پر موسیقی کا ھنگامہ بھی ضرور کرنا ھے……اس پر ڈالر بھی ڈالیں گے……..بھنگڑا بھی ڈآلیں گے……….لیکن اگر اپنا کوئی بچہ یہ شوق کرے گا..تو اوے بے غیرت……یہ مراثیوں والے کام کب سے شروع کیا ھے…لیکن پچھلے دس پندرہ سال سے منظر تبدیل ھوتا نظر آتا ھے ………… کہ فنکاروں کی ایک ایسی کھیپ منظر عام ہر آئی کہ ھر فنکار دو چار سالوں کے بعد… ……کوٹھی اور ٹو ڈی کار کا…………مالک دیکھتے ھی دیکھتے بن گیا……اور میانوالی کے روائتی سوچ رکھنے والے پٹھانوں کے خیالات بھی کچھ نرم پڑ گئے…………….آج رات کو شادی کے پروگرام میں ایک متوسط طبقے کا غریب پٹھان جب سامنے سٹیج پر گانے والے فنکار کے متعلق سوچتا ھے کہ…………یہ مراثی جو سامنے بیٹھا گا رھا ھے………یہ امید ھے 70 /60 ھزار روپئے کا بیگ صبح ناشتے پر کھولے گا………تو وہ غصہ نہیں …….رشک کرتا ھے کہ کاش میں ایک…………….مراثی ھوتا………………………………لیکن عطاءاللہ کا قصہ 40 سال پرانا ھے……عطاءاللہ کا لنگوٹیہ گروپ………..الفی لگا کر ھر پروگرام پر اسکے ساتھ نتھی رہتا تھا……مفت کی سیریں …..شرابیں……….ر وسٹ مرغیاں……..اور بعض اوقات حسین چہرے بھی……انجوائے کرتے …….لیکن یہ ایک اور کام بھی کرتے تھے…….سامعین کی صفوں میں بیٹھ کر ایک پروپیگنڈہ بھی کرتے تھے……..کہ یہ جو بندہ گا رھا ھے….اسکا تعلق بہت اونچے خاندان سے ھے…یہ بہت امیر آدمی ھے….. اسے پیسوں کا تو …….مسلہ ھی نہیں ھے……اسے بڑا اندھا عشق ھو گیا ھے……..بڑا دکھی ھے……..اسکی کزن ھے…لیکن وہ ذرا غریب ھیں…….عطاءاللہ کا خاندان نہیں مانتا……بہت مظلوم ھے…….امیر آدمی ھے شراب میں ڈوبا رھتا ھے………….
حالانکہ عطاءاللہ کا تو مسلہ ھی بیروزگاری تھا……محبتیں تو وہ ھر مہینے بدل رھا تھا……انکے گھر میں تو جگھڑا ھی اسی بات کاتھا کہ یہ نواب کوی ڈھنگ کا کام کیوں نہیں کرتا …یہ زندگی ……..کیسے گزارے گا….یہ بین باجے …..کب اسکی جان چھوڑیں گے………..آخر کب تک……..
3 جنوری 2017

اس من گڑھت کہانی نےزمین میں اپنی جڑیں گہری کرنا شروع کیں……..امیر آدمی….کزن کی محبت کی گہری چوٹ…..شراب میں ھر وقت مدھ ھوش…….عاشقئ نے گانے پر مجبور کر دیا……..خاندان سے بغاوت ھے…….پانچ سات بندے ہر فنکشن میں بیسیوں بندوں کو بڑے اعتماد کے ساتھ یہی کہانی سناتے……..عطاءاللہ تو فنکشن کر کے…….خالی ھاتھ ………سگرٹ کی ایک نئی ڈبی لےکر…گھر لوٹ آتا….لیکن پیچھے کہانیاں مہینہ بھر چلتی رھتیں……..
انگریزوں اور دنیا بھر کےدانشوروں نے………مالی لین دین کے سلسلے……….اقتصادیات…….میں ایک بڑی ذبردست شئے متعارف کرائی………..ڈیمانڈ…….اور مارکٹ ویلیو……….
ڈیمانڈ تو لالے کی ……….اندھی تھی….لیکن مارکٹ ویلیو تو اس نے خود طے کرنی تھی……وہ واجہ…….اور ماجہ لیکر چپ کر کے کار میں بیٹھ جاتا…..اور فنکشن پر اگلے مفت کا مال سمجھ کر اپنی مرضی کرتے……………..بےشمار فنکشنوں کے بعد…..عطاءاللہ کی کہانی کا لیول تو آسمان پر پہنچ گیا…………..اور خوشحالی کا لیول…… ………منجمد……صفر
بیشمار کیسٹیں سینکڑوں کی تعداد میں مے خانے سے نکل کر…… ……..میانوالی…بنوں روڈ پر ہر بس…کوچ….کار….ڈاٹسن………ٹرک….ٹریکٹر میں گھس گئیں……ھر گاڑی کے لئے لازمی تھا…کہ اسکے اندر عطاءاللہ کی کیسٹ چل رھی ھو…………………….واجہ…….ماجہ…لنگوٹئے……بیڑہ… ..چرس…..کاٹکو………ساری رات کی موسیقی…….جگراتا………اور ابے کی گالیاں……………………..عطاءاللہ نے درمیان میں ریڈیو…پی ٹی وی…………..سب کو آزما لیا…..طارق عزیز کے پروگرام …..نیلام گھر میں بھی گانا گا کر دیکھ لیا……..کچھ نتیجہ نا نکلا………غربت کا جن جبڑے پھیلا کر بوتل کے باھر کھڑا رھا……………..اب یہ پہلی دفعہ عطاءاللہ کی زندگی میں ایک سنجیدہ موڑ آیا……. اب ھو گا کیا ………….کیا ابا ٹھیک کہتا ھے…..اس کی گالیاں درست ھیں…. …..؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟بہت سے سوالیہ نشان عطاءاللہ کے دماغ میں لہرانے لگے…
……………………………………..
………………………………………….
عیسےا خیل سے سینکڑوں میل دور فیصل آباد میں ایک آدمی میوزک کی ایک چھوٹی سی دکان چلا رھا تھا…….اسکے حالات متوسط تھے……..بس گزارہ تھا…….اسے اپنےکسی کام کے سلسلے میں میانوالی آنا پڑ گیا…..جب وہ میانوالی کے علاقے میں داخل ھو گیا…….تو اس نے ھر گاڑی…ہر بس…..کار…..کوچ…..ڈاٹسن….ٹرک پر ایک ھی گلوکار کو گاتے سنا…….تحقیق کی………اسے بتایا گیا یہ عاشق…….دیوانہ……کزن کی محبت میں گرفتار ھو کر………….خاندان سے بغاوت میں گا رھا ھے….یہ بڑا امیر بندہ ھے……اسکا نام عطاء اللہ ھے
ادھر عیسےا خیل ………..اپنے مےخانے میں عطاءاللہ سارے نتیجے نکالنے کے بعد….ساتھ والی دیوار پر اپنی ٹانگیں رکھ کر .دوپہر کو انتہائی مایوسی کے عالم میں.ماسٹر وزیر کے ساتھ اپنی زندگی کی پہلی مایوس ترین گفتگو کر رھا تھا….
ماسٹر میں…….تھک گیا ھوں…….موسیقی نے مجھے کیا دیا ھے……….پروگرام بھی بےشمار کرکے دیکھ لئے …..ریڈیو….ٹی وی پر بھی جان ازما لی ھے………نتیجہ بالکل صفر ھے…….کب تک یہ سب چلے گا………….گھر میں پریشانی ھے……………………پیسہ…ٹکا…میرے پاس نہیں ھے……نوکری مجھے نہیں مل سکتی…………..ماسڑیار تم تو استاد ھو تمہیں……………………..پنشن بھی ملے گی…………میرا کیا ھو گا……
اتنے میں ایک آدمی کمرے کا دروازہ کھول کے……..اندر آگیا
اسلام علیکم……….جی میں فیصل آباد سے آیا ھوں…..میرا نام رحمت ھے…….مجھے عطاءاللہ سے ملنا ھے…………جی میں عطاءاللہ ھوں …………تشریف رکھیں… ….حکم؟
خان جی….میری میوزک کی دکان ھے…………میں آپکی کیسٹ نکالنا چاھتا ھوں………………عطاءاللہ نے اسے دل ھی دل میں بڑی گندی گالی نکالی………….جی رحمت صاحب…..اس سے کیا ھو گا………………کیسٹیں تو میری ھزاروں پہلے سے موجود ھیں…………..اس کیسٹ سے کیا ھوگا…………خان جی آپکی ریکارڈنگ اور سسٹم کی ریکارڈنگ میں بڑا فرق ھو گا……. عطاءاللہ تنگ آگیا…….اچھا ٹھیک ھے جی رحمت صاحب…………اپنا ایڈریس نوٹ کرائیں……..میں آ جاوں گا…………….شکریہ خان جی…. رحمت نے ایڈریس لکھوایا اور اجازت مانگ لی………عطاءاللہ نے چائے پانی کا پوچھا……….نئی خان جی………………میں پہلے ھی لیٹ ھو گیا ھوں………..
بے غیرت…………… یہ ایک اور الو کا پٹھا تھا……….کیسٹ نکالنا چاھتا ھوں…………شکل دیکھو اسکی……..کیسٹ تم نکالو گے……..تم بیچو گے……….مجھے کیا ملے گا …….لعنتی.!4 جنوری 2017

عیسےا خیل دور تے نئی —وضاحت
میں نے رحمت گراموفون کو عطاءاللہ کے گھر کا راستہ دکھا دیا ھے……لیکن اگلی قسط لکھنے سے پہلے ایک وضاحت کرنا بہت ضروری ھے………..
معزز فیس بک فرینڈز………….دوستو…..ساتھیو …..!
میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کر رھا ھوں کہ عطاءاللہ کی میں تہ دل سے عزت و قدر اور اسے دل سے تسلیم کرتا ھوں……………….وہ لیجنڈ ھے ، عالمی سطح کا بندہ ھے……..پالستان کی تمام چھوٹی بڑی … ………ایلیٹ…اور بیوروکریسی ……..اسکے ھاتھ چومتی ھے……..وہ زھین ھے………….فطین ھے ……مقدر اور نصیبوں والا بندہ ھے…پاکستان کا ایک بڑا نام ھے……..راگ…..گریمر…..سر اور طبلہ کو ایک سائیڈ پر رکھ دیں……………………..وہ جو کچھ گاتا ھے………ٹل لگا کر…………اور دل سے گاتا ھے…………جسقدر رش……میلہ…شہرت…..پیسہ…..محفلیں اور محبتیں……..رنگینیاں…اس نے دیکھی ھیں….بہت مشکل ھے کسی فنکار نے دیکھیں ھوں…………………………………………
تو پھر آپکو کیا لگتا ھے کہ میں اسکی توھین …..تمسخر….اور جگ ھنسائی …….اور insult لکھ رھا ھوں……………………….. کیوں بھلا ؟؟؟؟؟؟؟ نہیں نہیں !
ھاں البتہ میں اسے ایک ولی اللہ نہیں سمجھتا………اسکی زندگی بھی ایک عام ادمی کی طرح……….غلطیوں……خطاءوں …….گناھوں…….حسرتوں………..آرزووں …………….محرومیوں کی زد میں رھی…..اسکا ردعمل بھی عام آدمی جیسا رھا……….یہی تو میری کہانی کا سارا حسن ھے………اگر میں اسے اپنے ھر فقرے میں….عظیم آدمی…….عظیم آدمی……. لکھوں تو …..پھر یہ بات تو ھر آدمی جانتا ھے……..
یاد رکھیں عظیم لوگ صرف اللہ کے …………ولی ھوتے ھیں
آپ سے التماس ھے کہ غلطی سے بھی شک نہ کریں کہ میں کسی کی توھین کر رھا ھوں..
شکریہ.. آپکا خیر اندیش
عبدالقیوم خان-5 جنوری 2017

میں 1972 جب اپنی تعلیم مکمل کرکے واپس گھر آیا تو میرے والدین کچہ کمر مشانی اپنے ٹیوب ویل اور زمینوں وغیرہ پر رھتے تھے………میں کچے میں بند ھو گیا…….سرگودھا اور لاھور کی آزاد فضاءوں سے رھنے کے بعد…..کچہ….. 7/6 ماہ کے بعد میں نے بھٹو کی سپاہ دانش میں apply کیا… اور بھرتی ھو گیا …..200 روپئے تنخواہ تھی……… ان پڑھ……..بڑے ……بوڑھے طوطوں کو تعلیم دینی تھی……….کمر مشانی کے ساتھ……….خودزئی…. کے مقام پر…….میں نے ایک واقف پٹواری کی بیٹھک پر دفتر بنایا……..بہت سے قاعدے کتابیں ملیں………علاقے میں بات مشہور ھو گئی.. . …..طوطوں نے انکار کر دیا .. …..کوئی نہیں آیا………شکر پڑھا……..مجھے انکی ذھانت پر رشک آنے لگا………….مجھے ایسے ھی ذھین لوگوں کی ضرورت تھی…..اوپر سے بھی کسی نے progress رپورٹ نہیں مانگی…….پیپلز پارٹی زندہ باد…….یعنی دما دم مست کلندر…………..میں صرف تنخواہ لینے جانے کا اصل کام کرتا تھا……….بیچارہ !!
میں سارا دن اظہر نیازی کے جنرل سٹور پر کاونٹر کے اندر والے حصے میں بیٹھ کر اسکے ساتھ گپ شپ کرتا تھا…….اظہر نیازی کمر مشانی پرمیرا سب سے بہترین دوست تھا …….رات کو بھی میں اقبال شیخ کے گھر رہتا تھا…..ادھر بھی اظہر نیازی اور چند اور لنگوٹئے مل کر چار پانچ لڑکے بن جاتے تھے…….میں میز پر طبلہ بجا کر……….کچھ نہ کچھ انہیں سناتا رہتا تھا……اظہر نیازی ان دنوں بہت دکھی تھا………اپنے دل کا حال بھی ……..اس….کو نہیں بتا سکتا تھا………بہت مجبور تھا……..اسکی حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی تھی………اسے حوصلہ دینے کےلئے مجھے سارا دن جھوٹ بولنے پڑتے تھے…….یار آج ……….. وہ….بندہ…تماری بار بار پوچھ رھا تھا………..یار آج وہ بہت بےچین تھا…………یار………آج وہ بہت چپ تھا………… ایک دن ساتھ والی بیٹھک پر رات کو ریڈیو پر آل انڈیا پر رفیع لتا کا گانا……یاد میں تیری جاگ جاگ کے ھم رات بھر کروٹیں بدلتے ھیں……….چپ…..چپ ………میں نے کہا……..سنو ! سب چپ ھو گئے …… گانا سننے لگے……کمرے پر سکتہ طاری ھو گیا……2/1 منٹ میں گانا ختم ھو گیا……ھائے اللہ….کاش ایک دفعہ پھر لگ جاتا………میں نے کہا………اور گانا پھر لگ گیا……مجھ سمیت سب شل ھو گئے………………
ایک دفعہ ساتھ والی بیٹھک پر رات کو کیرم بورڈ کھیل رھے تھے…ھم چار بندے وھاں پہنچ گئے……….مجھے انہوں نے شامل کر لیا….وھاں ایک لڑکا اصغر کھیل رھا تھا…..پتہ چلا وہ بنوں کا رھنے والا ھے…..بنوں کا سینما سلیم تھیٹر انکا تھا…….گیم کے اندر ایک جگہ میں نے ایک چٹکلا چھوڑ دیا……سب ھسنے لگے…….وہ لڑکا مجھ سے ذرا دب گیا…..بعد میں وہ میرا دوست بن گیا……..اس نے مجھے بنوں آنے اور سلیم تھیٹر پر فلم دکھانے کی پیشکش کی……..اچھا میں آوں گا……دل میں کہا مشکل ھے…….
کمر مشانی سال سے اوپر کا عرصہ گزرا ھو گا……اگلے سال میں سائنس ٹیچر لگ کے ……….عیسےا خیل آگیا….
یہ ایک نئی دنیا تھی……..سائنس روم…..طلبا…….عطاءاللہ….موسیقی……..ھارمو نیئم…….دھنیں………….بعد میں منور علی…………………..
عیسےا خیل میں جو سب سے پہلی انوکھی چیز مجھ سے ٹکرائی………..وہ عمرا یعنی بھورا خان تھا……..چٹا ان پڑھ……سادہ……تھوڑا بیوقوف………تھوڑا دلچسپ……..بیروزگار …….یعنی بالکل فارغ…………گھر اگر مہینہ نا جاتا کوئی پوچھنے والا نہیں تھا…..یعنی اس پر اللہ کآ مکمل فضل تھا……….وہ الفی لگاکر میرے ساتھ نتھی ھو گیا…………… بعض اوقات روٹی پانی بھی وھیں…….کبھی رات بھی وھیں میرے پاس……………بلکہ ایک مفت کی نعمت تھا…………………………………..عمرا بھیمے والے ھوٹل سے چار روٹیاں پکڑنا……………اور سالن بھی…….دو سگرٹ بھی….لیتے آنا….شاباش …..سگرٹ اسکے لئے اصل چیز تھی……
وہ میری زبان سے نکلے ھوئے اردو انگریزی کے لفظ یاد کرتا اور پھر انہیں دوبارہ استعمال بھی کرتا………….مثال کے طور پر……………….کیا میں بھی عطاءاللہ کی طرح مشہور ھو سکتا ھوں ..؟ نہیں.! ………..کیوں بھلا …میں وضاحت مانگتا …………..جواب یہ آتا……..تم یار misfit ھو
دکان پر گیا وھاں چائے کا ڈبہ مانگا……دکاندار نے پوچھا لپٹن والا یا سپریم …؟ یار discouragee نہ کرو…………………میں نے پوچھا کہ میں اتنا دبلا کیوں ھوں……………… .کہا تم تو کبھی موٹے نہیں ھو سکتے……….تم احساس تنتری کے شکار ھو…………………….احساس تنتری کونسا..؟ وھی جو تم اس دن کہ رھے تھے…………….اچھا اچھا …..یعنی احساس کمتری…..ھاں ھاں وھی وھی…………..6 مہینے نوکری کرنے کے بعد ………..مجھے یاد آیا کسی نے مجھے بنوں سلیم تھیٹر پر آنے کو کہا تھا………………عمرا…..آو بنوں چلتے ھیں…..اصغر کے پاس…………………یہ کون ھے…………..چھوڑو تم …….کل بنوں چلتے ھیں……..ٹھیک ھے…… بنوں پہنچ گئے……..اچھا پیش آیا…..میزبانی کی…..فلم دکھائی………..اسکو یہ بھی پتہ چلا کہ میں نے ھارمونیم بھی رکھا ھوا ھے……اس نے ھارمونیم کا بھی بندوبست کیا………….ھم ھر مہینے اصغر کے پاس جانے لگے…………….ایک مرتبہ عمرے نے انکشاف کیا کہ……………میں تو فلم دیکھنے یہاں نہیں آتا……….میں تو صرف اصغر کے لئے آتا ھوں…………………………..اچھا..وہ کیوں………اس نے دل پر ھاتھ رکھ کر کہا………ھائے اصغر……………………….اچھا اوئے …..بے غیرت……………اصغر کو اس بات کا پتہ ھے..؟نہیں یہ سیکرٹ ھے……..سیکرٹ کا بچہ……علاقہ غیر میں ھیں…….مجھے تمہارے مرنے کا زیادہ افسوس نہیں ھو گا……….لیکن میں بھی مارا جاوں گا بے غیرت.انسان……………………وہ ھمارا آخری پھیرا تھا …..موبائل بہت بعد میں آئے……اصغر کا کوئی پتہ نہیں ھے……………….
دو تین سال بعد میں اور عمرا کوہ مری مال روڈ پر آوارگی کر رھے تھے…….کہ اچانک اصغر کو سامنے سے آتے ھوئے دیکھا ………..تپاک سے ملے………….سائڈ پر بیٹھ گئے ……کافی عرصے سے بنوں کا چکر نہیں لگایا……کوئی ناراضگی تھی…………………….نہیں نہیں.بس یار مصروفیت تھی……..
اصغر نے کہا کوئی کاغز نکالو…..بڑا زبردست کلام ھے …..لکھو…..اسے ھارمونیم پر ٹرائی کرو…………………..ٹھیک ھے……….لکھواو
ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا……ادھر زندگی انکی دلہن بنے گی………………………………………………………………………………………………….یار یہ تو بہت دکھی کلام ھے….6 جنوری 2017

اصغر کا دیا ھوا کلام………..ادھر زندگی کا جنازہ…..حیران کن تھا….میں نے اسے ایک مناسب دھن میں ڈھالا……کچھ دوستوں کے سامنے گایا…..ایک رو مرتبہ عطا ءاللہ کے سامنے بھی گایا……….عطاءاللہ اپنی پر سوز …….اور بلند آواز کی وجہ سے…اپنی محنت اور6/5 سال پہلے شروع کرنے کی وجہ سے……مجھ سے کئی گنا اچھا گاتا تھا…..
مظہر نیازی کمر مشانی میں بالکل اکیلا رہ گیا…….میں اپنی نئی دنیا میں بالکل کھو کر رہ گیا…………..سکول کے بعد سارا ٹایم ھارمونیم پر……………ھارمونیم کے سحر سے نکلنا………اور کمر مشانی کا چکر لگانا………..نا ممکن ھو گیا…………کئی سال بیت گئے…….اظہر نیازی سے دوبارہ ملاقات نہ ھو سکی…………………ادھر اظہر نیازی اپنے ھجر و فراق اور اندھے عشق کو …………..دہکتی ھوئی شاعری میں ذھالنے لگا………..اور پھر وھی ھوا جو ھونا چاہئے تھا…….اس کا رابطہ عطاءاللہ سے ھو گیا…….اس نے عطاءاللہ کو ایسے گیت دئے………..کہ دنیا حیران رہ گئی……..
بے پرواہ ڈھولا کیوں ڈتا ھئی ساکوں رول…………….
جیویں جگ تے ڈھولا ڈاھڈے رولے پائے نی………………
چولا چکنے دا………………….
دل مجبور اے تے دلبر دور اے……………….
شالا تیری خیر ھووے وسیں پیا کول وے
اظہر نیازی سارا جگ بیوفا ھے…..ساڈے کولوں سا ڈا پر چھاواں وی جدا اے………………………..
پچھدا نی ڈکھیاں دا حال ماھی وے………..بانھدا ھیں تو کیوں غیراں نال ماھی وے……….
عطاءاللہ کے پاس مجبور …..اظہر….منور علی…..اور امتیاز خالق کے گائے ھوئے لوک گیتوں کا ایک بڑا خزانہ جمع ھو گیا….جب رحمت گرموفون …..عطاءاللہ سے ملکر واپس چلا گیا………ھفتہ دس دن تو اسکا عطاءاللہ نے اپنے لنگوٹیوں سے کوئی ذکر ھی نہیں کیا………..کچھ دن بعد اس نے ماسٹر وزیر سے کہا …..ماسڑ ایک بات تو رحمت کی بالکل ٹھیک تھی…..کہ سٹوڈیو کی ریکارڈنگ…..اور کیسٹ پر تصویر……..فرق تو بہت ھے………….لیکن فیصل آباد جائیں گے کیسے……………………….کرایہ؟ او یار تم صرف یہ فیصلہ کرو کہ سسٹم پر ریکارڈنگ کرانی ھے یا نہیں… ….اگلا کام میرا ھے……………..وہ کیسے ؟ اپنی جیب سے بھرو گے ؟
نئی نئی یار…………وہ عطا بادشاہ ھے نا…………..وہ روزانہ بنوں سے فیصل آباد ڈبے پرچلتا ھے…….اسکے ساتھ فری بیٹھیں گے………………………آخر مے خانے کا پرانا رند ھے وہ بھی………………….امید ھے بے غیرتی نہیں کرے گا.
تین چار دن صبح اڈے پر ڈبے کی انتظار کرتے…….جب ڈبہ آتا………عطا بادشاہ کہتا………یار معزرت……….اندر جا کر دیکھ لو……..سیٹ بائی سیٹ ………….فل ھے…فیصل آباد کی سواریاں ھیں…….میں انہیں کیسے اٹھا سکتا ھوں…….پانچویں یا چٹھے دن کامیابی ھو گئی…واجہ……ماجہ……..ماسٹر وزیر ………اور عطاءاللہ فیصل آباد کی سیٹوں پر بیٹھ گئے………..کشمیر فتح ھو گیا……یہ ایک………………مرکزی کامیابی تھی….وہ بالآخر رحمت گراموفون پر پہنچ گئے………………اور دوسرے دن ریکارڈنگ شروع ھو گئی…………….فیصلہ یہ ھوا کہ سسٹم کی ریکارڈنگ ھے……..کم ازکم چار کیسٹوں کا ما ل ھونا چاھئیے…………
ریکارڈنگ کے اندر re-take بہت ھوے……چھ دن گزر گئے اور صرف…….تین کیسٹیں ریکارڈ ھوئیں……..وہ روٹی….پانی …………چائے رکھ دیتے…..اور غائب ھو جاتے…اور ریکارڈنگ کی ڈیل پر ایک لفظ بھی طے نہیں ھوا…………… عطاءاللہ نے ساتویں دن ماسٹر وزیر کے سامنے گالیوں پر مشتمل…….. ایک آڈیو کلپ اپنے مے خانے کی زبان میں چلایا…….اگر یہ گالیاں لکھی جا سکتیں تو…….زیادہ حقیقی منظر سامنے آ سکتا تھا……….لیکن چلو ……….جانے دیں !
آج کوئی ری-ٹیک نہیں ھو گا……..آخری چوتھی کیسٹ ڈائریکٹ شروع کر کے ایک گھنٹے تک ختم کر دوں گا…….اور یہاں سے دفع ھو جائیں گے………………ھم سے بے غیرتی ھو گئی ھے جو یہاں آ گئے ھیں………کنجروں والا سلوک ھے…..شاید یہ کام ھے ھی کنجروں والا……………….ابا ٹھیک کہتا ھے……….چوتھی کیسٹ ایک گھنٹے کے اندر ریکارڈ ھو گئی………………………………………..اور اس میں ادھر زندگی کا جنازہ……….ریکارڈ……ھو گیا !7 جنوری 2017

ریکارڈنگ کے بعد عطاءللہ ….ماسٹر وزیر…اور ماجہ عیسےا خیل آ گئے………چھ…سات سال کی سخت محنت ……بہت زبردست آواز………لمبی سانس …..اوپر والی پچ پر بہت زور دار گائیکی………..نیا سٹائل………سرائکی اردو مکس……….گریمر سے دور……..اور عوام کے بالکل نزدیک والی موسیقی……..سب کچھ رحمت گراموفون کے حوالے ھو گیا………………………ادھرسوائے ماسٹر وزیر کے باقی لنگوٹیوں کو کسی کو پتہ نہیں تھا کہ……عطاءاللہ کہاں گیا اور کیا کرکے آگیا…………وقت خاموشی سے گزرتا رھا…….اس وقت رابطے کی سائنس ابھی دوسرے علا قوں میں تو تھی..لیکن عیسےا خیل ابھی ptcl سے بھی محروم تھا………ھم slow موشن میں ڈاکخانے کے سہارے ایک دوسرے سے رابطوں میں تھے………………خط کس نے……..کس کو لکھنا تھا……………………..
ایک دن عطاءاللہ کو سکول کی اپر-سٹوری پر کالج میں دیکھا……………شاید وہ منور علی سے ملنے آیا تھا…اس نے ایک تھیلے میں کچھ اٹھا رکھا تھا…………….وھاں سے فارغ ھو کر سیدھا میرے سائنس روم میں پہنچا………….. عطاءاللہ یہ کیا ھے تھیلے میں………………………. قیوم بھائی ….یہ کیسٹیں ھیں……..رحمت والوں نے 200 کیسٹیں مجھے دی ھیں………کہ میں بھی کوشش کروں….کہیں یہ نہ ھو کہ سارہ پروگرام ھی فیل ھو جائے………………پھر عطاءاللہ کمر مشانی داتا جنرل سٹور پر بھی گیا……….اظہر نیازی کو کیسٹیں دینے کے لئے…………وہ اور نہ جانے کہاں کہاں گیا….
یہ وہ وقت تھا جب عطاءاللہ بالکل پیدل تھا……..ھم سب کی طرح………….اسے ابھی تک کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیسٹیں چلیں گی یا فیل ھوں گی………..دنیا کا ھر وہ آدمی ….جو زیرو سے……….ھیرو…بنتا ھے وہ اس phase سے لازمی گزرتا ھے…………….ابھی عطاءاللہ کے پاءوں زمین کے اوپر تھے………اسے غربت …….اور غریبوں کی سمجھ آتی تھی
اب ایک نئی تبدیلی ھو گئی……….عطاءاللہ کے ساتھ عیسےا خیلوی کا نام لگ گیا……………عطاءاللہ کے نام کا ھندسہ بدل گیا……..قسمت ایک نئے روپ میں لوگوں کے صحنوں…..
ڈرائنگ روموں…….کاروں اور دلوں تک پہنچنے والی تھی………..بات مڈل کلاس سے نکل کر ایلیٹ …..کلاس میں جانے والی تھی……………..لیکن عطاءاللہ 200 کیسٹوں کا تھیلا اٹھا کر………بسوں …….ڈاٹسنوں پر بیٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگی جا رھا تھا………………..غربت………اور دولت میں صرف…………..20/15 دنوں کا فاصلہ رہ گیا تھا………
عطاءاللہ اپنی شخصئیت کے اعتبار سے ایسا نہیں تھا……کہ کوئی اسکے ساتھ پکا تعلق بنا سکے……….لنگوٹیوں سمیت ھر بندہ B کیٹیگری میں تھا سوائے چند ایک شاعروں کے …..مثال کے طور پر ……منور علی ملک……مجبور عیسےا خیلوی……..اور چند ایک دوسرے لوگ………… suspense ………….ڈرامہ ………ناز ………نخرہ……اور برتری کا احساس……………یہ پیدل عطاءاللہ کے فیچر تھے………..آگے تو دھماکہ ھونے والا تھا………………….
پندرہ ……بیس دن میں خبرآ گئی………کہ پہلی تین کیسٹیں بھی چلی ضرور ھیں…………..لیکن………..ادھر زندگی کا جنازہ نے پورے پاکستان میں دھماکہ کر دیا…………….شادی بیاہ والے لوگ پورے پاکستان سے ……………ادھر زندگی.کے جنازے.. کی طرف دوڑ پڑے………………….. عطاءاللہ آتے ھوئے رش ….کو دیکھ کر….
بات سمجھ گیا…………….پہلے والی غلطی کو اب دوبارہ نہیں دہرانا چاھتا تھا……..بہت امیر آدمی……….خاندان سے بغاوت………شراب کے نشے میں دھت……………….ساری تھیوری کو الٹ دیا…………….پہلی پارٹی سے روپیہ 2000 مانگ لیا……. مارکیٹ آسمانوں سے بات کر رھی تھی….یہ پیسے فوری طور پر مل گئے…………اسی دو ھزار کی وجہ سے آٹھ دس ھزار اوپر سے بھی پڑ گیا………….دو…..دو….ھزار کے
تین چار پروگرام ھوئے………………اگلے پروگرام پر دو پارٹیاں آگئیں…………….ان کے اندر مقابلہ شروع ھو گیا……. ..جسکو سات ھزار پر جا کر بریک لگی…………
یہ شاید 1976 کی بات ھے………اس وقت کے لحاظ سے تمام ملازم لوگ اپنی اپنی تنخواھوں پر غور کریں…….میں تو گریڈ -16 میں شاید 500 روپئے لے رھا تھا……..دو ھزار اور سات ھزار ھمارے تصور میں بھی نہیں آ سکتا تھا……………………وہ سات ھزار سے بہت جلد دس ھزار پر چلا گیا………………ھر دوسرے دن پروگرام…………………….بس 20 دنوں کے اندر اسکے پاس ذاتی کار تھی……………..
اب عطاءاللہ آسمان کی بلندیوں پر تھا…………..اسکی چال ڈھال…….گفتگو………انداز…..نخرہ……..ادائیں……….ایک مکمل خان آعظم……………….جیسی تھیں……
اسکے ھٹ ھو نے کے بعد…………..میں نے عطاءاللہ کے والد صاحب سے پوچھا عطاءاللہ کہاں ھے……….پتر….خان اعظم جھنگ پروگرام پر گیا ھے……….پتر خان آعظم نے جو نئی کیسٹ رحمت گراموفون سے کرائی ھے وہ اتنی دکھی ھے کہ تم سنو گے تو رو رو کر تھک جاءو گے…………….میں حیران………پیسے کا ھونا اور نہ ھونا……….خونی رشتوں میں بھی کتنا فرق ڈال سکتا ھے…………….کل عطاءاللہ بیروزگار تھا…………تب بھی وہ خونی….رشتہ تھا………….اس وقت صرف گالیاں…………………………….اور اب خان آعظم……….اسی کو دنیا کہتے ھیں………..بس ایک کھیل تماشہ………..ھر چیز………ھر رشتہ….ھوا میں………..بس ایک ماں کے سوا………………………..جو بالکل اٹل ھے……….اللہ………………اور ماں……باقی سب جھوٹ ھے………….عطاءاللہ سات ھزار سے پانچ لاکھ تک پہنچ گیا…. کاٹکو رہ گئی …………ولائتی …آگئی…لنگوٹیوں کا پہلا گروپ بکھر گیا……..نئے لنگوٹئے آ گئے…….ماسٹر وزیر اور شفاء ھرایا……….زندہ حالت میں ھیں……………..پچھلے کئی برسوں سے……….عطاءاللہ کے نزدیک انکا ….کہیں سایہ تک نظر نہیں آتا……8 جنوری 2017

ادھر زندگی کا جنازہ………….اور کہانی نے عطاءاللہ کو …….لیجنڈ بنا دیا ……………ھم پاکستان کے کسی حصے میں جاتے…….جیسے ھی کسی کے نوٹس میں آتا……..کہ یہ عیسےا خیل سے ھیں…….سامنے والا فوری طور پر سوال داغتا………………….وہ……عطاءاللہ کو آپ جانتے ھیں………..جی ضرور…………………سنا ھے وہ کسی کے عشق میں مبتلا تھا………….میں تنگ آکر بعض اوقات جواب دیتا………یار یہ بتاو تمہیں کسی سے عشق نہیں ھوا…………….ھوا ھے………تو پھر اسے بھی ھوا ھے……….
کسی سے چھینی ھوئی غزل………………اور جھوٹی کہانی………اتنی منہ زور………..کہ بمیں کہنا پڑتا ………یار وہ اسکی کزن تھی…………
عطاءاللہ کی شادی……..اسکے ھٹ ھونے سے سال یا دو سال پہلے ھوئی تھی……….الصدف جنرل سٹور پر عطاءاللہ نے مجھے بتایا……….اس موسیقی کی وجہ سے پورے عیسےا خیل نے مجھے ٹھکرا دیا تھا………..کوئی رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں تھا……………کہ گلوکار ھے…….لڑکی کو بھوکا مارے گا……….مجبوری کی حالت میں مجھے اپنی کزن سے شادی کرنی پڑی……………….قیوم بھائی………..نین……نقشوں کے لحاظ سے تمہاری بھابی دنیا کی خوبصورت ترین عورت ھے………….لیکن………..جو وہ چاہتی ھے……وہ کبھی نہیں ھو سکتا…………………………وہ کیا ؟ وہ چاھتی ھے میں اسکے گوڈے کے ساتھ بیٹھوں ……..رات کو… …….میں موسیقی کے بغیر کیسے رہ سکتا ھوں………..سوال ھی پیدا نہیں ھوتا
بس ………..یہی.جھگڑا ھے……….میں چپ چاپ……..سنتا رہتا…………اور سوچتا رہتا………یہ وھی کزن ھے….جسکا عشق…………..آل ورلڈ……..مشہور ھے………..عطاءاللہ سے جب بھی…….ٹی وی پر………….محفلوں میں کوئی……اینکر……کوئی میزبان…..محبت کی چوٹ کے متعلق پوچھتا………….تو وہ بہت خوبصورت …….الفاظ میں شعروں میں…………………اس تاءثر کو مزید مضبوط کرتا……
ھٹ ھو جانے کے بعد….عطاءللہ کی چاھت …………اتنی اندھی..تھی…….کہ بیسیوں مرد و خواتین………………..پورے پاکستان سے ….اسے دیکھنے……اسکے ساتھ تعلقات رکھنے…………اسکے ساتھ تصویریں بنانے میں بےحد خوشی محسوس کرتے تھے……………کئی خواتین …….اس سچے عاشق کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستی تھیں…………..عطاءاللہ کو کئی مردوں نے…………..اپنی بیگمات سے……….احسان مند ھو کر ملوایا………………خان جی….یہ……..آپکی بڑی فین ھے…………….یہ بے غیرتی………شعوری نہیں تھی……..آندھی ایسی چلی ھوئی تھی…….ایک پیر و مرشد…………ایک سچا عاشق………..جو عشق کا مارا ھوا ھے……………….اسکو کسی اور کا ھوش کہاں……..یہ ھماری خوش قسمتی ھے………ورنہ اسکی ایک جھلک بھی دیکھنا مشکل ھے………..ھمارے گھر آگیا ھے………….
عطاءاللہ نے سوچا کسی بڑے شہر میں ……….ٹھکانہ رکھنا چاھیئے..
عطاءاللہ کے کسی فین نے اسے اسلام آباد اپنی کوٹھی کی آفر کی…………….اس آفر کو غنیمت جانا………وھاں رھنے لگا
وھاں اسکا …..جگری دوست………….عاشق دیوانہ …..اختر بھی رہتا تھا…….دن رات کی ملاقاتیں……….اور موسیقی کے ھر پروگرام میں اکٹھے……………..پھر ایک بڑا واقعہ ھوا……
عطاءاللہ کا اسلام آباد کی ایک کوٹھی میں بند پروگرام ھوا………………جہاں لیڈیز کی تعداد بہت زیادہ تھی…..بڑا close پروگرام تھا…….کچھ خواتین سٹیج کے قریب آکر بھی فرما ئشیں کرنے لگیں………….ماحول بہت گرم جا رھا تھا…….کچھ خواتین نے پروگرام کے end پر عطاءاللہ سے رابطہ نمبر مانگا………..جو انکو مل گیا……………
کچھ دنوں کے بعد ایک خاتون نے…….عطاءاللہ سے رابطہ کیا…….میں فلاں بول رھی ھوں…..مثال کے طور پر……….ثمینہ ………یہ پشاور گورنمنٹ گرلز کالج کی پرنسپل تھی………….میں آپ سے بہت متاثر ھوں…..میں آپ سے تعلق رکھنا چاھتی ھوں….
عطاءاللہ ایک بہترین جگ……عاشق……..میں خود آپ سے بہت متاثر ھوں…………….آپکی آنکھیں بہت خوبصورت ھیں……..فون دونوں طرف سے ھونے لگے………….پھر ملاقاتوں کاسلسلہ چل پڑا………..ان ملاقاتوں میں کہیں سائڈ پر اختر بھی موجود ھوتا تھا………..
عطاءاللہ ایک بڑا شکاری تھا ………….اس بار خود شکار ھو گیا………..وہ اسکے اعصاب پر مکمل طور پر چھا گئی……..وہ بالکل اندھا ھو گیا اسکی محبت میں…………..اسے پہلی دفعہ احساس ھوا کہ موسیقی کے پیچھے اگر محبت ھو تو موسیقی کتنی…………پر سوز ھو جاتی ھے……..پہلی دفعہ عطاءاللہ کی موسیقی کے پیچھے ایک عورت آگئی–9 جنوری 2017

عیسےا خیل دور تے نئی…قسط–15
ویسے تو یہ سچ ھے کہ محبت میں آدمی کی مت ماری جاتی ھے..اسے اپنا محبوب……..بہت خوبصورت………عقلمند…انوکھا ….نرالا….اور ھر لحاظ سے perfect نظر آتا ھے………ثمینہ کو عطاءاللہ سے محبت ھونے کے باوجود……….اسے یہ عجیب وغریب قسم کا کریز تھا کہ اسکے محبوب کو کم از کم میٹرک نہیں ھونا چا ھئیے……
عطاءاللہ کہتا ھے میں گریجوئیٹ ھوں…….اور اسکا شاھی خاندان سے تعلق ھے………میرا دل تو نہیں مانتا……ثمینہ دل ھی دل میں کہتی……..پھر وہ سوچتی ….پتہ کیسے چلائوں………….مجھے اختر کو قابو کرنا ھو گا…….وہ اکثر سوچتی………..پھر……ایک دن اختر کو .بالآخر فون آ ھی گیا
جی میں……….ثمینہ بول رھی ھوں……….جی…جی……..آپ اختر صاحب بول رھے ھیں……..جی…….کیا میں آپ سے کبھی کبھار فون…..پر رابطہ رکھ سکتی ھوں…….جی ضرور…..مجھے بہت خوشی ھو گی…………اختر اس فون سے بڑا خوش ھوا…………اس کے دل میں سو……….دلیلیں آئیں….
پھر یہ رابطہ چل پڑا………ھر ….دوسرے….تیسرے دن فون آنے لگا…………..لیکن ھر فون پر باتیں صرف عطاءاللہ کی ھوتیں…………اور عطاءاللہ کے متعلق شکائیتیں بھی ھوتیں…
اختر اور عطاءاللہ میٹرک کے بعد……..ایک محبت نما تعلق رکھتے تھے………..وہ ایک دوسرے کی جان بنے ھوئے تھے….ماھر نفسیات کہتے ھیں ………..پہلا پیار اپنی جنس کے بندے سے ھوتا ھے……. لیکن یہ………teen age کے دو بندوں کی محبت تھی……وہ پچھلے پانچ چھ سال سے ایک دوسرے سے ………..اندھے طریقے سے وابستہ تھے.. البتہ اختر خطر ناک حد تک انا پرست…………….خود پرست تھا….
تعلق کا پہلا دور……یہ تھا…کہ اختر بہت امیر…ای-ایم-ایس آرمی میں ایس-ڈی-او……گاڑی……رشوت کا پیسہ…….اچھا گھر………….اور عطاءاللہ……..بالکل ….بے حال………..
اب عطاءاللہ پورے پاکستان کی آنکھوں کا تارا تھا…………..ٹو ڈی…….پروٹوکول………..پیسہ……سینکڑوں خواتین ارد گرد……………..ھر دوسرے دن موسیقی کا پروگرام…………اختر کی انا خامخواہ مجروح ھوتی رہتی…….اور عطاءاللہ کے رویئے میں اسے ………….بے پرواھی …………توجہ کی کمی……..ھر چیز کا عطاءاللہ کی ذات پر ………..فوکس…..اور احساس برتری…………..
اختر……..لاشعور کی……..کسی نچلی تہ میں عطاءاللہ سے ناراض تھا……….لیکن مکمل طور پر نہ چھوڑ سکنا اسکی مجبوری تھی………وہ اپنی ناراضگی کو سمجھ نہیں پا رھا تھا………………………..ثمینہ……….ایک ا چھا outlet تھی…….
ایک دن عطاءاللہ کا…..عیسےا خیل سے ایک رشتے دار اعجاز خان آیا…………..عطاءاللہ نے ………اچانک شام کو ثمینہ کے پاس چائے پینے کا پروگرام بنایا…اختر کو بتایا………ثمینہ کو فون کیا………عطاءاللہ یہ پہلے سے ھی جانتا تھا………..کہ وہ اکیلی ھے……..بہرحال پشاور کی لمبی ڈرائیوپر……….تین آدمی نکل گئے………وہ ثمینہ کے پاس پہنچ گئے………..چائے چلی…….کھانا چلا………………..پھر ایک اور فیصلہ ھو گیا………آج رات ادھر ھی ٹھہرتے ھیں……….دو دو کے گروپ بن گئے……………….اعجاز اور اختر ایک کمرے میں چلے گئےاور…….عطاءاللہ …….ثمینہ کے ساتھ بند ھو گیا…………وھاں انکے درمیان کیا ھوا……….اللہ جانتا ھے……………….لیکن جو انکے درمیان باتیں ھوئیں…………..وہ یہ تھیں……..عطاءاللہ نے ثمینہ سے کہا…………میری بیوی اور میرے درمیان طلاق کا مسلہ چل رھا ھے…..اور میں اب اسے طلاق دینے کا فیصلہ کر چکا ھوں……………..اس طلاق کے بعد میں آپ سے شادی کرنا چاھتا ھوں………..آپ اپنی مرضی بتا ئیں…..

…….میں ……….سوچوں گی…….مجبے ٹائم دیں……میں ……..اپنے خاوند سے طلاق لینے کا فیصلہ……..منٹوں میں نہیں کر سکتی………..محبت آپ سے میں بھی کرتی ھوں…………..کچھ وقت دیں…………
صبح ناشتے کے بعد کار پنڈی جا رھی تھی………….اس میں چار آدمی تھے……….چوتھی ثمینہ….وہ ایک خاص کام کے لئے پنڈی جا رھی تھی……عطاءاللہ کو پتہ تھا……..ثمینہ…..کو بھی پتہ تھا………..اور اللہ کو..بھی……میں اسے سنسر کر رھا ھوں………پردہ…..ثمینہ……………….ایک فیصلہ کن موڑ پر آگئی……..وہ دیکھ رھی تھی………طلاق تو وہ پکی پکی دے رھا ھے…..اب اسے کیا فیصلہ لینا ھے… 10 جنوری 2017

میرے فیس بک فرینڈز…….دوستو…..ساتھیو……
جس طرح آپکو عیسےا خیلدور تے نئی کی قسطوں کا شام کو بہت انتظار رہتا ھے…….صاف ظاھر ھے…………یہ آپکا پیار ھے…..جو میرے لئے ایک…….سرمایہ حیات ھے……..مجھے بھی آپ سے اور ……..اپنی قسطوں سے…….اتنا ھی پیار ھے……بات منور علی سے چلی تھی………اور آگے………درمیان میں عطاءاللہ آگیا………منور علی سے میرے دو…چار سال…کی ملاقاتیں رھیں …………اور عطاءاللہ کے ساتھ مجھے ایک زمانہ ………..ھو گیا……اسلئے بات ذرا لمبی ھو گئی……….ابھی عطاءاللہ….. .پر اور قسطیں چلیں گی……میرے اوپر کچھ اور ذمہ داریاں بھی ھیں …..کبھی دل کرتا ھے اس کام کو روک دوں.. ………آپکا پیار درمیان میں رکاوٹ ھے……….میرے لئے دعا کیجئے ………..کہ میں اس آزمائش ہر پورا اتر سکوں…… …شکریہ…
فقط آپکا خیر اندیش
ایک ناچیز
عبدالقیوم خان
ثمینہ نے اپنی تحقیق مکمل کرنے کے لئے……ایک بڑا…….جمپ
لگایا…….اس نے ایک دو روز میں اختر کو فون کیا…….
کیا آپ صبح………..بارہ بجے کے بعد کسی ٹایم پشاور آسکتے ھیں…….آپ سے بہت ضروری ملاقات کرنی ھے………..جی مجھے کوئی مسلہ نہیں ھے……..ساڑھے بارہ بجے تک آپ کے پاس آ جاوں گا…….آپ بے فکر رھئیے……..
عطاءاللہ ،اعجاز……اختر ااور ایک…….اور آدمی ایک جگہ جمع تھے……….بڑی گپ شپ چل رھی تھی…….اختر بار بار ٹایم دیکھ رھا تھا…………..اختر اچانک اپنی جگہ سے کھڑا ھو گیا…..عطاءللہ یار مجھے تھوڑا سا کام ھے……..میں ….گھنٹے تک آ جاوں گا…………….کدھر……عطاءاللہ نے کہا………..بس یار میں ابھی گیا………….اور ابھی آیا……….وہ تیزی سے باھر نکل گیا…………………….گاڑی پر بیٹھا………….پشاور کو رخ کر لیا………….مجھے پہلے ھی پتہ تھا……….وہ ایک دن مجھ پر مہربانی کرے گی………..اگر وہ عطاءاللہ کو گھاس نہیں ڈالنا چاھتی…………تو میں اس میں کیا کر سکتا ھوں………ضروری تو نہیں ھر………….عورت موسیقی پر مر مٹے…………آج مجھے اس نے اکیلا بلایا ھے………اور وہ بھی عطاءاللہ سے خفیہ……………بات بالکل صاف ھے……….
اختر خود پرست تو تھا ھی……..وہ انتہا کا……romanticc ……بھی تھا…….سارے جہان کا حسن عطاءاللہ کے اوپر آن…………گرا…….یہ کہاں کا انصاف ھے…….چلو ثمینہ تو اسکے ھاتھ سے گئی……….اختر سارے رستے میں …………اپنی انا کی تسکین کرتا رھا……..
ثمینہ بالکل الرٹ تھی……..ایک ملازم کی باقائدہ ڈیوٹی تھی….ملازم کو پتہ تھا……کہ اختر کا رنگ……….ڈھنگ…..اسکے بال……..اسکی چال……اسکی ڈھال…..اسکی…….عینکیں………..کیسی ھونگی……….جیسے ھی اختر کالج اترا……….اگلے تین منٹوں میں ثمینہ کے پاس پہنچا دیا گیا……………….ثمینہ نے ایک دلبرانہ مسکراھٹ کے ساتھ اسکا استقبال کیا…………..اختر صاحب بہت تکلیف دی ھے آپکو……….بہت معزرت……………آپکو یہاں تک پہنچنے میں تکلیف تو نہیں ھوئی…………ایک ھی سانس میں سب کہ دیا…………اختر کے منہ سے…………خوشی ٹپکنے لگی………نہیں جی تکلیف کیسی………کوئی مسلہ نہیں ھوا…..جیسے ھی کالج میں….in ھوا……ملازم آپکے پاس لے آیا………آپ سنایں آپ کیسی ھیں………………جی میں ٹھیک ھوں…………………………رسمی سی گفتگو چلتی رھی………پھر پر تکلف چائے آگئی……………پھر عطاءاللہ کا ذکر آ گیا………کچھ کالج کا زکر چلا……….اس نے بتایا میں کتنے عرصے سے اس کالج میں ھوں…………دو بج رھے تھے………بڑا پر تکلف…………………کھانا آ گیا……………………………
کھانے کے بعد………………..اچانک ثمینہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا……..اختر صاحب…………مجھے آپکی guidance کی ضرورت ھے………مجھے سچ سچ بتا دیں ذرا کھل کے… یہ عطاءللہ کی حقیقت کیا ھے……….اسکا بیک-گراونڈ کیا ھے…….کیا وہ واقعی گریجوئٹ ھے………..اسکا شاھی خاندان سے تعلق ھے……….اختر……عطاءاللہ ……..عطاءاللہ کی…..رٹ سے تنگ بیٹھا تھا……………بکواس کرتا ھے………….میٹرک ھے…….اور کونسا شاھی خاندان…………….اگر یہ موسیقی میں ھٹ نہ ھوتا تو………..خاندان…..بھوک مر رھا تھا……..اختر بولتا گیا……………..بولتا گیا………….اورثمینہ……..شل ھو کر سنتی رھی…………………پھر کمرے پر سکتہ طاری ھو گیا…..ایسا لگتا تھا …………جیسے کمرے میں کوئی نہ ھو…….اختر نے ثمینہ کو دیکھا………وہ بلکل off ھو گئی تھی
اچانک اختر کو لگا……………جیسے اس سے کوئی بھاری غلطی ھو گئی ھے…………….یہ میٹنگ تو برائے عطاءاللہ تھی……اور صرف……..عطاءاللہ کے لئیے بلوایا گیا ھے………..ادھر ثمینہ……….. نیم بے ھوشی جیسی کیفیئت میں سوچ رھی تھی……..اس بندے کے پاس تو موسیقی کے سوا ……………….کچھ بھی نہیں ھے…..ھائے افسوس……یہ میں نے کیا …………..کیا.اتنی آگے چلی گئی..محبت میں….اب پیچھے ھٹنا کتنا تکلیف دہ ھو گا……ھٹنا تو ھے……اختر کو ایسے لگا جیسے ثمینہ کسی اور جہان میں چلی گئی ھے…………………میں نے کتنی بیوقوفی کی………..صرف عطاءاللہ کی خاطر ……………..اس نے مجھے بلانے کا……………….risk لیا…….پتہ نئی اب ھو گا کیا
صاف ظاھر ھے………اب یہ…………عطاءاللہ کو بھی بتائے گی…میرا نام بھی لے گی………………..کیسے نہیں لے گی….؟
اسکا تو میرے ساتھ کوئی تعلق ھی نہیں تھا…………..اسکا مطلب ھے عطاءاللہ………………..ایک بڑی حقیقت ھے……….اختر کا منہ………….لٹک …….گیا…..اس نے بجھے ھوئے دل کے ساتھ ثمینہ سے اجازت مانگی……………
جی………………..ضرور……..شکریہ………..آپ نے تکلیف اٹھائی
ثمینہ نے انتہائی آف…….موڈ کے ساتھ اختر کو الوداع کیا…..اختر……نے دیکھا ثمینہ …………….جیسے ایک زندہ لاش ھے…
ثمینہ نے فوری طور پر عطاءاللہ سے فون ملایا………..اسلام علیکم…………………………………….عطاءاللہ میں نے یہ فیصلہ کر لیا ھے………میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی………..
مسلہ کیا ھے………آپ بہت ناراض لگ رھی ھیں…….کیا ھوا ؟
بات تو سمجھائیں…………میرا کوئی قصور..؟
آپکا سارا سچ میرے سامنے آگیا ھے………..آپ جھوٹ بولتے ھیں……………آپ میٹرک پاس ھیں……آپکا کوئی بیک گراونڈ نہیں ھے………………سنیں میں آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاھتی…………………..اچھا میں ادھر آ رھا ھوں…پس آخری دفع………..مجھے سمجھ نہیں آ رھی…………..اچانک یہ کیا ھو رھا ھے……………………………کچھ وقت کے بعد عطاءاللہ اور ثمینہ آمنے سامنے تھے…………………..نہ تم اتنے یقین کے ساتھ کیوں کہ رھی ھو……………..کوئی ملا ھے تم سے ؟
ھاں ھاں ملا ھے کوئی………………کون؟
تمہیں کیوں بتاوں……………..نہیں بتاتی……..اس نے مجھ پر احسان کیا ھے ……..میں غلط فیصلہ کر رھی تھی……اس نے مجھے بچا لیا……….سوال ھی پیدا نہیں ھوتا……….
دیکھو جان………….اگر میں اسے پتہ چلنے دوں تو پھر مجھے ھر سزا قبول ھو گی……..میں قسم اٹھاتا ھوں …………مجھ سے جو حلف لے لیں ……اسکو ھر گز نہیں بتاوں گا…………اللہ پاک کی قسم میں اسکو پتہ نہیں چلنے دونگا……………….پکا………………..چلو ٹھیک ھے کلمہ پڑھو………….عطاءاللہ نے ذرا دیر نہیں لگائی…………….
اختر نے……………عطاءاللہ کے نیچے سے زمین گھم گئی……..وہ اپنا سر پکڑ کر ثمینہ کے سامنے بیٹھ گیا……….عطاءاللہ کے آنسو نکلے ھوئے تھے………….پانچ منٹ کی خاموشی چھائی رھی…………………..عطاءاللہ نے ٹھنڈی سانس بھر کے کہا………..آپکی مہربانی ثمینہ……..دیکھو میں جو کچھ بھی ھوں…………آپ سے اندھی محبت کرتا ھوں………..آپ سے شادی کرنا چاھتا ھوں…………….ھاں میں میٹرک ھوں……………..
لیکن مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی………….نہ آپ سے رابطہ رکھنا ھے………عطاءاللہ نے بڑے دلائل دئے لیکن ثمینہ نے ایک نہیں سنی…..تھک ھار کر عطاءاللہ …………جیسے روتے ھوئے .وھاں سے نکلا…..گاڑی کو سنبھالنا اسے مشکل لگ رھا تھا…..سیدھا اختر کے گھر پہنچا…………..اختر باھر نکلا……..عطاءاللہ کار میں بیٹھا رھا
اختر نے کہا آو گھر کے اندر بیٹھتے ھیں………بہت مہربانی……..اختر سنو…………شاید آیندہ ملاقات نہ ھو سکے…………یار اتنے چھوٹے….اور کمینے بندے ھو تم مجھے میٹرک ثابت کرنے کے لئے تم پشاور ثمینہ کے پاس پہنچ گئے………………ویسے تمہیں میں یہ بتا دوں یہ بات مجھے ثمینہ نے نہیں بتائی………………….بلکہ میں اس جگہ پردوں کے پیچھے خود موجود تھا……میں نے خود اپنی آنکھوں سے تمہیں دیکھا ھے…..اور اپنے ان کانوں سے میٹرک پاس کہتے سنا………… کمینے آدمی…….. صرف یہ بتا دو……تمہیں مجھ سے تکلیف کونسی پہنچی تھی………اور ثمینہ نے تمہیں انعام کونسا دینا تھا………بے غیرتی مجھ سے ھوئی اتنے گٹھیا بندے کو میں نے…….بھائیوں جیسا درجہ دیا ھوا تھا……..مجھے کبھی نہ ملنا………نہ کبھی فون کرنا……جہنم میں جاو……..عطاءاللہ نے کار سٹارٹ کی اور بغیر دعا سلام وھاں سے نکل آیا……
اختر………………..اور ثمینہ دونوں عطاءاللہ کی زندگی کا بڑا سچ تھے…………اختر پر اندھا اعتبار……..اور ثمینہ سے اندھا پیار…………لیکن سچ عطاءاللہ کو راس نہیں آیا………….وہ پھر اسی جھوٹ پر واپس آگیا…………کزن کیلئے گاتا ھوں……….محبت تھی وہ غریب تھی…………خاندان سے بغاوت کی…………..ھجر………..فراق …نے گلوکار بنا دیا
ثمینہ نے دوبارہ فون اٹینڈ …نہیں کیا……..اختر سے پچھلے 28 سالوں سے رابطہ نہیں ھوا….اسکے لئے دونوں….مر گئے.-11 جنوری 2017

عیسےاخیل دور تے نئی….ایک ضروری وضاحت

معزز فیس بک فرینڈز….ساتھیو…دوستو

آپکا بے حد شکریہ……آپ نے قسط -16 تک…….بے پناہ محبتوں…………شدید……انتظار……اور بے چینیوں….کا اظہار کیا……اور ھر قسم کے کمنٹس ……….اس پوسٹ کی چاھت میں دئے…..

عطاءاللہ کی رھائیش کا پنڈی اسلام آباد میں عرسہ سال دو سال کا تھا………..بعد میں وہ اس سے بڑی مار کیٹ…….لاھور میں شفٹ ھو گیا………اسکے لنگوٹئے……..دوست……..اور …..ملنے والے اس سے کافی سائیڈ پر رہ گئے……..اسکی زندگی کا……..ٹریک……ایک ھی قسم کا ھو گیا……….خواتین کا بے پناہ رش………سیلفیاں………آزاد تعلقات………روزانہ کے موسیقی کے پروگرام…………چڑھتے ھوئے ریٹ……….دس ھزار سے …..بیس ھزار………..پچاس ھزار………لاکھ……دو لاکھ…….تین …..چار ….اور پانچ لاکھ…… 

اسکی رومانٹک سٹوریاں ساتھ ساتھ چلتی رھیں…..

ھر دفعہ اسکی ایک نئی love story اپکے سامنے بیان کرنا مناسب نہیں………..محبت کی سٹوری……کو چھوڑ کر اسکی دو تین سٹوریاں……….بہت مزے دار…….آپکو سنانی ھیں ……….لیکن مجھے …اسکے لئے…..کچھ شواھد…..کچھ تفصیلات…….اکٹھی کرنی ھیں……مجھے آپ کچھ وقفہ دیں

ویسے بھی ھر روز اتنی بڑی قسط لکھنے کا میرے اوپر بڑا لوڈ ھے…………آپ تو قسط دو منٹوں میں پڑھ کر……..اسے……like کر دیتے ھیں……..یا دو لاینوں کے کمنٹس دے کر فارغ ھو جاتے ھیں…….اور آپکے مزے……اور نشے کی یہ جایز ڈیمانڈ ھے……….کہ آپکو ھر روز………………نئی قسط چاھئیے………. اور آپکی یہ خواھش بھی میرے لئے ایک اعزاز…………ھی ھے……….لیکن اب آپ مجھے……اپنی خوشی اور رضامندی سے………..چار دن کی چٹھی دے دیں…….میں مصنوئی….اور فرضی کہانیوں سے نہ خود مطمعن ھو سکتا ھوں…….نہ آپکا ٹایم برباد کر سکتا ھوں……..مجھے پورے شواھد اکٹھے کرنے ھیں……..میں نے سچ کو…………سادگی کے ساتھ براہ راست کہنا ھے….یہی میری پوسٹوں کی خوبصورتی ……..ثابت ھو سکتی ھے…..اب ھر قسط کے بعد تین چار روز کا وقفہ ھو گا…….آپ کی اجازت سے……..آج قسط کی چٹھی کر رھا ھوں…….اللہ حافظ فقط……آپکا خیر اندیش…..ناچیز –

عبدالقیوم خان-12 جنوری 2017

میں عطاءاللہ کو مے خانے سے ڈائیرکٹ ……..پنڈی اسلام باد لے گیا……..ان قسطوں میں زیادہ لائف تھی…مزا تھا….بالکل اسی طرح……. جس طرح ..فلم کی چلتی کہانی میں…………اچانک ایک گانا آجاتا ھے……….لوگ فریش ھو جاتے ھیں…………پھر دوبارہ کہانی……..شروع کر دی جاتی ھے………….عطاءاللہ کے ھٹ ھونے سے پہلے………..مےخانے کے دور کی زندگی میں ایک بڑا واقعہ…………عطاءاللہ کی اپنی……………کزن سے شادی تھی………….
عجیب دنیا ھے………کج فہمی……اور کھیل تماشہ………عطاءاللہ گائیکی اور فن کے لحاظ سے پانچ چھ سال کی ساری رات کی پریکٹس سے بہت ھی اچھا گلوکار بن چکا تھا……………لیکن اسے کوئی عظیم آدمی…….عظیم فنکار کہنےکے لئے تیار نہیں تھا……….صرف مالی پریشانیوں کی وجہ سے…………….پیسے کا ھونا اور نہ ھونا چیزوں میں کتنا فرق ڈال دیتا ھے………..آج جب ھم عطاءاللہ کو ایک عظیم گلوکار کہتے ھیں تو شاید اسکا مطلب بھی ………..پیسہ ھی ھے
جب عطاءاللہ کچھ کما نہیں رھا تھا تو سب سے زیادہ پریشان عطاءللہ کا ابا حضور تھا………… پڑھائی ادھوری…………..نوکری بہت مشکل…………بین باجے اور آوارہ لوگ………….ابا حضور ھر وقت اسی بھنور میں ڈوبا رھتا….اگر عطاءاللہ مار پیٹ کی حد میں ھوتا تو ابا اسکی پسلیاں توڑ دیتا…………….مے خانے پر ………جو کچھ چل رھا تھا…….گھر والوں کی نظر میں ان ساری باتوں کا…………………..ایک ھی نتیجہ تھا……………بربادی !
شروع شروع میں ………کچھ آس امید تھی…….دو چار سال ابا نے بہت مقابلہ کیا……..جو بھی عطاءاللہ سے ملنے آتا………بہت سخت رویہ دیتا…….لیکن موسیقی نہ رک سکی……..راتوں کے جگراتے…..بھی چلتے رھے…..نہ لنگوٹئیے پیچھے ھٹے……….
لنگوٹیوں …….اور ماما………احسن خان اپنے وقت کے بہت مایہ ناز استاد……امتیاز خالق سے جا کے ملے…….کہ وہ عطاءاللہ کو موسیقی کی کچھ سمجھ بوجھ دے..اور کچھ اسکے ھارمونیم پر ھاتھ…………..سیدھے کرے……لیکن عطاءاللہ کے والد کا اتنا خوف تھا…….کہ استاد امتیاز نے کہا اسکا والد مجھے سیدھا فائر مارے گا….جب تک عطاءعاللہ کا والد خود نہ کہے میں تو ……….نہیں سکھا سکتا……..
بقول ھیبت خان بمبرہ………ھارمونیم ھیبت نے 40 روپئے کا خرید کر عطاءاللہ کو دیا تھا………….
استاد امتیاز کو ھامونیم بجاتے دیکھ …..دیکھ کر …………….نقل مار کر……گزارے کا ھارمونیم سیکھ لیا…….اور……..موسیقی چل پڑی…………ابے اور عطاءاللہ کا مقابلہ بھی چل پڑا……………ابا مشرق….کی طرف کھینچتا…….عطاءاللہ مغرب کی طرف چلتا……….ابا بھی چلتا رھا………………اور واجہ بھی…
کل اسکی شادی ھو گی……….بچے ھوں گے……انکا کیا ھو گا ؟
وہ اکثر سوچتا رہتا…………وقت گزرتا رھا……….
پھر اچانک روشنی کی ایک کرن…………تاریکیوں کو……..چیرتی ھوئی……آگے بڑھی…………..شادی !
ھاں اسکا علاج شادی ھے……………..بڑا زبردست حل ھے…..
عطاءاللہ سے……..دونوں نے…….اماں اور ابا نے شادی کی بات کی…………تمہای شادی کی حسرت …….ھے…تمہاری شادی کا سہرہ دیکھنے کی خوشی دیکھنا چاھتے ھیں…….عطاءاللہ نے………سنی …..ان سنی کر دی………….بیٹا جی دیکھو……زندگی کا کیا بھروسہ……آج ھے……….کل نہیں ھو گی……….اب مجھ سے گھر کے کام نہیں ھوتے………. مجھے بہو لا دو………………..اماں نے کہا
عطاءاللہ کو سمجھ نہیں آ رھی تھی………ابا میرا نام نہیں سن سکتا………..اچانک مجھ پر اتنا مہربان کیسے ھو گیا…
عطاءاللہ نے بہت سوچا……..لنگوٹیوں نے مشورہ دیا……..او یار……..یہ ماوں کی حسرت ھوتی ھے……….سہرے دیکھنے کی…….بہو کی……..شادی کی……..تمہیں اس میں کیا نقصان ھے……….ھاں کہ دو…………….بالا آخر عطاءاللہ نے کہا……ٹھیک ھے ………..چلو لڑکی ڈھونڈو پھر……….لیکن اماں میری بات سن لو…….میں یہ صرف تمہاری بات مان رھا ھوں……مجھے اس شادی سے کوئی دلچسپی نہیں ھے.. میں اسے زیادہ وقت نہیں دے سکوں گا………پھر گلہ نہ دینا…….ابا سن رھا تھا………اس نے دل ھی دل میں کہا…..انشاءاللہ سارہ وقت اسی کو دو گے…………عورت بڑے بڑوں کے چکھے چھڑا دیتی ھے………..تم ھو کیا چیز. ؟
رات کو نکلو گے……….کیسے………..حرامزاروں کی طرف
عطاءاللہ کی ھاں کے بعد……………وہ پورے شدو مد کے ساتھ سارے …………….علاقے میں ھاتھ پاوں مارنے لگے…….اس بات سے کہ موسیقی سے جان چھوٹ جائے گی………..لیکن جدھر گئے انکار…….انکار…….انکار…….اتنی ھنگامی سطح پر موسیقی کرنے……………..بیروگار ھونے………آوارہ ھونے..پر……سارا عیسےا خیل………..بالکل انھی لائنوں پر سوچ رھا تھا……..جن لائنوں پر عطاءاللہ کے والدین سوچتے رھے تھے……………….سب ایک ھی بات پوچھتے…………کرتا کیا ھے……آگے سے خاموشی جواب ملتا…………….بڑی پریشانی ھو گئی…………..میں تو پہلے ھی یہی کہتا تھا…….اسے بھلا کون رشتہ دے گا……
بالآخر ………..عطاءاللہ کے گھر والوں نے……..عطاءاللہ کے چچا سے رجوع کیا………………..یہ کرتا تو کچھ بھی نہیں ……میں اپنی بیٹی کو کیوں عزاب دوں………..اس نے تو ساری زندگی بین……باجے بجانے ھیں……..نا…….بابا….نا
نئی یار شادی کے بعد……….یہ سب کچھ چھوڑ جائے گا….ھم نے بڑے بڑوں کو سیدھا ھوتے دیکھا ھے………………یہ کیا چیز ھے……………….شادی کے بعد ایک مہینے کے انرر واجے…….اور حرامزادے…………ختم……. ! اور پھر یار آپکی بچی میری بھی تو…………بچی ھے…….اسے آنشاءاللہ کوئی تکلیف نہیں ھونے دیں گے………
ھفتہ دو ھفتے چچا کے گھر آنا جانا لگا رھا…………..چچا ڈھیلا پڑ گیا……………………….اور ھاں کر دی
عطاءاللہ اس رشتے سے ذرہ بھی مطمعن نہیں تھا………اس نے نہ کوئی دلچسپی دکھائی……………………….اور نا انکار کیا
اسکی نیم رضامندی کو…………………..رضامندی سمجھا گیا
عطاءاللہ کے ابا جان کو امید لگ گئی………….یا اللہ تیرا شکر ھے ……….موسیقی سے تو جان چھوٹے گی……….
پھر شادی کی…………..ڈیٹیں…………..رکھی گئیں………………..اور شادی کی تیاریاں ھونے لگیں…………15 جنوری 2017

مے خانے کے باھر ٹینٹنگ……کی گئی……کچھ چار پایاں….کچھ کرسیاں……کل 80/70 بندہ موجود تھا……اس وقت بازار سے مسجدوں والے لاوڈ سپیکر 50 روپئے میں ملتے تھے..شادی کا پورا کنٹرول……….اور شیڈول…..عطاءاللہ کے ھاتھ میں تھا………بالکل…..سادہ سی روائیتی سی شاری کی تقریب تھی…….البتہ……موسیقی اسکا بڑا جزو…….تھی ………..ابے نے سوچا چلو آخری …….موسیقی ھے.
پہلا eventt موسیقی کا تھا……..منور علی ملک کا لکھا ھوا سہرا……………..سمیٹتا ھے گر یباں کی دھجیاں کوئی……..نظر جو پڑی اس تار تار سہرے پر
پھر پھر استاز امتیاز نے اپنے مشہور و معروف لوک گیت ……جوڑی بٹ نہ چائی کر گھڑیاں دی
ڈھولا لمے نہ ونج……………………..ککڑا مندا تھیوی کیوں ڈتی ھئی سویلوں بانگ………..
کر کر منتاں یار دیاں …….اخر آنڑ جوانی ڈھلی
یونس خان مرحوم کے دوھڑے یونس یار گیا دل کھس کے……..گھت گیا ساکوں ھجراں دے وس وے
استاز امتیاز خالق……ایک خوب صورت نقش و نگار اور گھنگرالے بالوں والا بندہ تھا………جو اپنے وقت پر ایک مایہ ناز …….لوک فنکار….کلاسیکل اور گریمر سے بھر پور …..طبلے کو مکمل طور پر سمجھنے والا آدمی تھا…..جو کہ بہت حساس………نازک مزاج…….گلو کار……موسیقار تھا..جس نے بھیرویں……جوگ …..سندھڑہ ….پہاڑی کو ..گائیکی کی دنیا میں ضلع میانوالی کی پہچان بنایا……جس کے ایک زمانہ میں راولپنڈی ریڈیو سٹیشن سے میانوالی کے لو ک گیتوں کے نام سے ………..دس سال تک لوک گیت چلتے رھے…….ریڈیو ایک زمانے میں پاکستان کا واحد میڈیا تھا…….شہنشاہ ایران جب اسلام آباد آیا…..تو اسکے سامنے جو آرکسٹرا بجایا گیا…..استاز امتیاز خالق اس آرکسٹرا کا مرکزی کردار تھا………….یہ ایک ایسا عظیم فنکار تھا…..جسکے دوھڑہ گانے کے سٹائیل کو میانوالی کا کوئی فنکار نکل نہیں کر سکا……….عطاءاللہ نے اسکے ماڈل کی نکل کر نے کی بے حد کوشش کی………لیکن یہ بالکل نا ممکن تھا……عطاءاللہ کا موجودہ دوھڑہ ………….استاد امتیاز خالق کے دوھڑے……کی آدھی شکل ھے.
آخری زندگی میں ………..مفلسی…..کسمپرسی………بیروزگاری……بڑے بڑے فنکاروں کی طرح ……استاد امتیاز کا بھی مقدر تھی
استاد امتیاز نے………فن کو اپنے ساتھ باندھا ھوا تھا……..اور اپنے ساتھ اپنی……….قبر میں لے گیا……ایک بھی شاگرد اپنے پیچھے نہیں چھوڑا…….کسی کو ایک حرف بھی نہیں سکھایا……..میں نے خود اسے استاد رکھ کر……دیکھا…سارا علم وہ اپنے بیٹے کو………..دے رھا تھا……….لیکن اسکا بیٹا جوانی ھی میں فوت ھو گیا…….اللہ کی مرضی………..استاد امتیاز اخری عمر میں ……….شاید 80 سال کی عمر بالکل تنہا رہ گیا………آخری عمر میں ……….مجبوری نے …..اسے عطاءاللہ کے پیچھے طبلہ بجانے پر مجبور کر دیا……ایک ماھر کلاسیکل موسیقار کا ایک انتہائی بخت والے……….اناڑی کے پیچھے طبلہ بجانا………..حضرت علی کا قول ھے……کہ جب بھی اللہ سے علم و عقل مانگیں……ساتھ مقدر بھی مانگیں…..کیونکہ میں نے کئی داناوں کو………..احمقوں کے گھروں میں غلامی کرتے دیکھا ھے………..لیکن میں نے مے خانے کا حصہ بننے والے ………..دو بندوں سے ایک عجیب بات………..خود آمنے سامنے ..one to one ملاقات میں سنی ھے……ماسڑ وزیر نے مجھے……..شراب میں ٹن حالت میں….بتایا…………….کہ میں تو عطاءاللہ کا سچا……….عاشق تھا….اور ایک دن عطاءاللہ نے کئی دنوں سے چپ حالت میں رھنے کی وجہ سے مجھ سے پوچھ لیا تھا……….آجکل بہت چپ چپ ھو کیا بات ھے…..تو میں پھر بھی چپ رھا…….وہ بار بار پوچھتا رھا…میں پھر بھی چپ رھا…..جب اس نے رٹ نہ چھوڑی ………تو میں اٹھ کھڑا ھوا…………اور گھر کی طرف چل دیا…اور عطاءاللہ بھی کھڑا ھوکر میرے ساتھ چل دیا……..راستے میں اللہ کے واسطے دئے……جب گھر بالکل نزدیک آ گیا……….تو اس نے مجھے پکڑ لیا..خدا کا واسطہ دیا…………وھاں میں نے سوچ لیا کب تک بغیر بتائے عشق میں جلتا رھوں گا………..میں نے کہا….مجھے تم سے محبت ھو گئی ھے……میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا….
میرا خیال تھا وہ کہے گا آج کے بعد مے خانے میں نہ آنا…….
لیکن اس نے کہا ……تو اس میں تمہارا کیا قصور ھے….محبت تو بس ھو جاتی تھی……اس پر کس کا بس چلتا ھے………..
لیکن دوسرا بندہ…………….آپ قطعی طور پر یقین نہیں کریں گے…………………اور آپ بالکل حق پر ھوں گے………..استاد امتیاز خالق.نے خود مجھ سے کہا…………..بیٹا جی……..میں تو عطاءاللہ سے عشق کرتا تھا…………….اسکا عاشق تھا.
اس لئے ایک دن عطاءاللہ سے ……………خود میں نے باھر والی کوٹھی پر کہا………………جتنا میں تمہارے متعلق جانتا ھوں………………….اتنا تم خو د بھی نہیں جانتے.
بات بہت دور چلی گئی……استاد امتیاز کے بعد………ماجے کے بھائی ………….مامد نے بہت اچھا گایا…..پھر مجھ سے کہا گیا……..مجھے یاد نہیں میں نے کیوں انکار کیا تھا…….میرے انکار کے بعد……….منور علی کے بیٹے…….علی عمران جو اسوقت بمشکل……………15 سال کا ھو گا……..نے گایا……شالا تیری خیر ھووے…………اور کیوں ڈتا ھئی ساکو رول بے پرواہ ڈھولا
روائیتی شادی کے آخر میں ایک غیر روائیتی کام ھوا…………ملتان………..یا فیصل آباد سے ایک ڈانسر منگوائی ھوئی تھی……….اور ڈانس کے دوران گاتی بھی تھی……….میں نے زندگی میں پہلی بار اسی کے منہ سے……سنا……..دل لگایا تھا دل لگی کے لئے…………..بن گیا روگ زندگی کے لئے.
شادی کے بقایا event سہرہ بندی……….نکاح……..بارات……رخصتی سب ھو گئے….چچا کا گھر …………گھر کی دیوار کے ساتھ ملحقہ تھا…….ولیمہ اس رات نہیں تھا………..اور جب دوسرے دن اگر ھوا تھا………تو میں اس میں نہیں گیا تھا…
شادی ھو گئی………عطاءاللہ کے گھر والوں نے شکر پڑھا
شادی کا ھنگامہ 44 بجے رات کو ختم ھو گیا……..لنگوٹئے گھروں کی طرف………..منہ کر گئے………..رات گزر گئی…….دوسرے روز عطاءاللہ 11 بجے نہا دھو کر……………سیدھا الصدف پر…………شام..7.30 ……..7 بجےگھر آیا….کھانا کھا کر سیدھا مے خانے پر……………………………..لنگوٹئے آگئے……..واجہ……….ماجہ ….موسیقی شروع ھو گئی…….عطاءاللہ کے گھر میں مایوسی کی ھلکی سی لہر دوڑ گئی………………..پھر موسیقی ؟
نئی نئی……………….شاید مہینہ ……………پندرہ دن لگ جائیں……….ابا حضور نے یہ کہتے ھوئے اپنے آپ کو حوصلہ دیا…
موسیقی………..ھفتے تک……….مہینے تک…………..سال تک چلتی رھی…..رات کو 55 بجے واپس آتا………..11 بجے دن کو تیار ھو کر سیدھا الصدف پر………..وھاں گھنٹے ……….آدھ گھنٹے میں کوئی لنگوٹیا بھی آ جاتا…….رات والی موسیقی کو ریکارڈ کرکے………..الصدف پر……..ڈیک پر سنتا تھا کبھی کبھار کوئی گاھک بھی آ جاتا……………..
کزن…………انتظار کرتی رھی……………..کرتی رھی….وہ نہ آیا کبھی……………………شادی نہیں چلی……..موسیقی چلتی رھی……..پھر عطاءاللہ ھٹ ھو گیا………..روزگار مل گیا……….اور شادی کا فارمولا…………………….اور کزن بہت پیچھے رہ گئے…………….اور عطاءاللہ عیسےا خیل چھوڑ کر پنڈی اسلام آباد پہنچ گیا……………..ابے اور کزن کی پہنچ سے بہت دور…………….وہ میکے چلی گئی…….
پھر اسلام آباد میں عطاءاللہ……………ثمینہ……..اور اختر کی مثلث………بن گئی…………
عطاءاللہ نے رات ثمینہ کے کمرے میں…گزاری…….عطآءاللہ ثمینہ کے ساتھ عشق کے ساتویں آسمان پر تھا..اس نے ثمینہ سے کہا میں اپنی بیوی کو طلاق دے رھا ھوں……….اس کے بعد میرا آپ سے شادی کرنے کا پروگرام ھے…….
پھر ایک دن عطاءاللہ اسلام آباد سے طلاق دینے کے لئے.50 ھزار کی رقم حق مہر لے کر عیسےا خیل آیا………………اور پھر طلاق ھو گئی……
عیسےا خیل کی فضاوں میں یہ طلاق…………….ھر ایک کے منہ میں تھی…….
عطاءاللہ شادیوں کے معاملے میں بہت بد نصیب انسان ھے……..اس کی کزن کے بعد آنے والیاں بیویاں…………………..زیادہ دیر تک…………….ٹک ……….نہ سکیں.
ویسے بھی……فنکار کو دیکھنا……اسکے فن سے لطف اندوز ھونا…………….اسکو دور سے محسوس کرنا………………اور اسکے ساتھ رہنا………..بالکل الگ چیز ھے
عطاءاللہ کو سمجھنا کوئی اتنا آسان بھی نہیں…..اسکا تعلق ……..اور دوستیوں کا رویہ بڑا عجیب و غریب ھے…..بلکہ اس میں تو وہ پکا پکا لیجنڈ ھے…………….وہ اپنے تمام دوستوں میں سے……6/5/4 دوستوں کو چنتا ھے..اور یہ ایک……….natural selection ھوتا ھے………یہ اسکے وہ دوست ھوتے ھیں……………….جنکو وہ…………….ااپنی ھر گفتگو میں………….مکمل….آزادی…….کے ساتھ…..بہت فرینکلی………..گالیاں نکالتا ھے……..اور وہ آگے سے خوش ھو کر گالیاں سنتے ھیں………..اور اسے روزانہ کا معمول سمجھتے ھیں………..وہ جنکو بھی گالیاں نکالتا ھے…….اسکا ایک ھی مطلب نکلتا ھے……………..کہ یہ لوگ عطاءاللہ کے بہت قریب ھیں…………….لیکن…..احترام کے لحاظ سے نہیں……..وہ سب اسکی کار……….کوٹھی………اور ڈرنک…….میں سب سے نزدیک ھوتے ھیں…………اسکے دل کے نزدیک نہیں
اسکے دل کے نزدیک تو ……..صرف اور صرف………کوئی خاتون ھوتی ھے…اور اسی کی بنیاد پر وہ موسیقی کر رھا ھوتا ھے…………
یہ بات بالکل سچ ھے کہ عطاءاللہ کی موسیقی کے پیچھے……………………..عورت کا ھاتھ ھوتا ھے لیکن وہ عورت بدلتی رھتی ھے…….
عطاءاللہ اپنی بیروزگاری میں بھی …………….صرف اپنی مرضی کا مالک تھا….ھمیشہ اسی کی مرضی چلتی رھی…….واجہ……..اور ماجہ چلتا رھا…..مے خانہ چلتا رھا..اور ابے کی گالیاں تو …….بس سائیڈ پر رہ جاتی تھیں……..ھٹ ھونے کے بعد تو……..اماں اور بابا دونوں اسے دل سے تسلیم کر چکے تھے……………..کزن کے ساتھ تو اسکی کبھی بنی ھی نہیں تھی………….گھر والوں کو پتہ تھا….کزنw اور اسکے ماں باپ خود………بھی طلاق چاھتے تھے……..کوئی چیز طلاق کو روکنے والی نہیں تھی……….اس نے سوچا تھا کزن کیا چیز ھے………..ثمینہ گریڈ 19/18 کی ایک خوصورت عورت میری زندگی میں آ نے والی ھے……………….کزن کو اس نے اپنی زندگی سے out کر دیا……اور ذرا عطاءاللہ کے نصیب تو دیکھیں کہ جس کو دل جان سے چاھتا تھا اسی ثمینہ نے عطاءاللہ کو اپنی زندگی سے………………. out کر دیا……………22 جنوری 2017

عطاءاللہ کی کیسٹ ہٹ ھونے کے بعد………جب عطاءاللہ پورے پاکستان میں پروگرام کر رھا تھا….. شاید یہ 1978 کا دور تھا…….تلوک چند محروم کے بیٹے….جگن ناتھ آزاد کے دل میں اپنے بابا کی جائے پیدائیش…….دیکھنے کی آرزو پیدا ھوئی…..
تلوک چند محروم عیےا خیل کا مایہ ناز شاعر تھا جو 1887 میں عیسےاخیل پیدا ھوا…. اس نے مڈل تک تعلیم لوکل سکول سے حاصل کی…….لیکن ایف اے…..بی اے کی تعلیم بھی پرائیویٹ طور پر ………حاصل کر لی……..مشن ھائی سکول
ڈیرہ اسماعیل خان میں انگلش ٹیچر لگے …….. وقت گزرتا رھا…………پھر……19333 میں کنٹونمنٹ بورڈ مڈل سکول کے ھیڈ ماسٹر لگ گئے
زمانہ طالب علمی میں ھی انکی نظمیں……….پنجاب کے رسائل میں اور…………اخبارات میں چھپنے لگے………تلوک چند محروم ایک نہائیت سادہ……مخلص……اور ..ھمدرد انسان تھے…..انکا پہلا مجموعہ کلام …….گنج معانی…..ایک پبلشر…..میسرز عطر چند …….نے لاھور سے شائع کیا…….. بعد میں…..انکا ایک ور مجموعہ کلام بھی …….شعلہ نوا……
کے نام سے شائع ھوا………. ریٹائرمنٹ تک پہنچتے…..پہنچتے انکی شاعری…….اور فنی قابلیئت……..کی اتنی شہرت پھیل چکی تھی……….کہ انہیں گارڈن کالج راولپنڈی……..میں اردو اور فارسی کے لیکچرر کی آفر ھوئی……جو انہوں نے ……قبول کی…….اور آخر تک وہیں پر ………اپنی خدمات دیتے رھے……… وقت تیزی سے گزرتا رھا……………..
ادھر برصغیر ھند و پاک میں………انگریز حکومت کے……جبر…….اور نا انصافیوں کے خلاف مختلف ……..سماجی و سیاسی…….تحریکیں شروع ھو چکی تھیں……ادھر یورپ میں …………ھٹلر…… پوری دنیا پر قبضے ……..کے جنونی…….خواب میں …..اندھا ھو چکا تھا………وہ یہ سوچ رکھتا تھا……کہ جرمن تو………ایک سپر قوم ھے ……….یہ باقی قومیں…………یہاں دنیا میں ……..کیا
ڈرامہ…….کر رھی ھیں……..لالہ ہٹلر……….جوانی میں اچھا مصور تھا…….آرمی میں عام سپاھی کی حیثیئت سے بھرتی ھوا……………اور……..پھر پوری جرمنی پر ……..ٹانگ رکھ بیٹھا…..تلوک چند سے عمر میں چھ……..سال چھوٹا تھا…..لیکن….. اعمالوں میں بڑا فرق تھا………………..1889 سے 1945 تک …………دنیا میں رھا……..لیکن پوری انسانی تاریخ..کو…………….اوپر سے نیچے……..کر گیا……..خیر سے دو عظیم جنگوں………اور ھیرو شیما…..ناگا ساکی……کو تباہ کرانے کے بعد اپنے…… . …اوپر……بھی…..ڈز….کر دیا…..
دنیا کی وہ قومیں جنھوں نے ان جنگوں………اور ھٹلر کو بھگتا………..وہ سب اور خاصکر برطانیہ…..اقتصادی طور پر بیٹھ گئیں…….ایک وقت تھا….جب برطانوی راج…….میں…سورج غروب نہیں ھوتا تھا………….لیکن 1945 تک دوسری جنگ عظیم کے ختم ھوتے ھوتے………برطانیہ..اپنے قبضے ھر ملک سے چھوڑنا چاھتا تھا
..ادھر قائد اعظم محمد علی جناح….اور گاندھی کی …….عظیم تر…..جدوجہد…….میں پورا ھندوستان……..ایک نقطے پر جمع تھا…………انگریزوں سے چھٹکارا……………اور پھر بالآخر…..برطانیہ کی پارلیمنٹ میں ھندوستان کو……..پاکستان اور بھارت میں تقسیم کرنے کا بل پاس ھو گیا…….اس طرح 14 اگست.1947 کو ………….برصغیر ھندو پاک میں……..ایک سیاسی بھونچال……..آگیا…………………..مزھب اور کلچر کی بنیاد پر انسانوں کی بہت……………..بڑی ابادیاں……جدا ھونے لگیں……..مسلمان……….ھندووں سے …..الگ ھو گئے……اور ھندو مسلمانوں سے…………دیکھتے ھی دیکھتے……صدیوں سے برقرار انسانی رشتے ……….پل بھر میں ٹوٹ گئے…… ..جہاں …….کل تک پیار تھا……وھاں نفرت کی آندھیاں……….چلنے لگیں…… محبتوں کے روپ………برف کے پہاڑوں کی طرح پگھلنے لگے………..فتنہ فساد……….حیوانی اور شیطانی………خواھشات نے……….انسانوں کے ایک بہت بڑے ریلے کو………..اپنے چنگل میں لے لیا…………..ھندو اور مسلمان……………دونوں نے انسانئیت کالبادہ…………اتار پھینکا …..مارو…..جانے نہ دو…..سب کا نعرہ تھا
کئی لاکھ …..مسلمان اور ھندو عورتوں …….کی عصمتوں کو…………..تار تار کیا گیا……..لاکھوں بچے…جوان…بوڑھے….بغیر کسی قصور کے …….. تشدد کی موت…..مارے گئے…………..
نفرتوں کے اس اندھے طوفان میں………… جس میں نہ مرنے والے کو پتہ تھا کہ کیوں مارا جا رھا ھے…………نہ مارنے والے کو یہ پتہ تھا…………..کہ وہ کیوں مار رھا ھے…………تلوک چند محروم کے لئے کوئی چارہ نہ رھا……..بھارت چلے جانے کے سوا………..تلوک چند جو کہ……..نہ ھندو تھا……نہ مسلمان
وہ تو بس ایک………………اچھا انسان تھا…..مصلحت کے تقاضوں……….کو نظر میں رکھتے ھوئے……..جگر پر ھاتھ رکھ کر………..آنسو چھلکاتے………..حسرت بھری نگاھوں سے …..اپنے ملنے …والوں…….دوستوں……..وطن کے …..گھر کے درو دیوار کو دیکھتے………ھوئے…..بھارت کو روانہ ھو گیا………………………..بقول تلوک چند محروم
بس اتنا حوش تھا مجھے روز وداع دوست
ویرانہ تھا نظر میں جہاں تک نظر گئی
ھر موج آب سندھ ھوئی وقف پیچ و تاب
محروم جب وطن میں ھماری خبر گئی  —25 جنوری 2017

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/isakhelc/public_html/wp-includes/functions.php on line 4344